.

ایرانی ریال کی قدر میں کمی، غیرملکی کرنسیوں کا کاروبار ٹھپ

ایک امریکی ڈالر 41 ہزار ایرانی ریال کے برابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی قومی کرنسی کے مقابلے میں عالمی کرنسی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باعث ایرانی تاجر غیرملکی کرنسی کے لین دین بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی بلیک مارکیٹ میں بھی غیرملکی کرنسی کا لین دین بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ڈالر، یورو اور آسٹریلوی پاؤنڈ کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں غیرمعمولی کمی ہے۔ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان دو سال قبل طے پائے معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مقامی کرنسی کی نرخ عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں نچلی ترین سطح پر آگئے ہیں۔

ایران میں اقتصادی خبروں سے متعلق ویب سائیٹ ’مثقال‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی 41 ہزار ریال ایک ڈالر کے مساوی ہے۔ کرنسی کی قدر میں اس حد تک کمی نے بلیک مارکیٹ میں بھی تاجروں کو ایک نئے خوف میں ڈال دیا ہے۔ دارالحکومت کے صرافہ بازاروں میں تاجروں نے غیرملکی کرنسیوں کا لین دین بند کردیا ہے۔

ایرانی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے جاری مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بجٹ خسارہ ایرانی ریال کی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر میں کمی کا موجب بنا ہے۔

ایران کے مرکزی بنک کے چیئرمین ولی اللہ سیف کا کہنا ہے کہ غیرملکی کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ اور ایرانی ریال کی قیمت میں کمی دراصل امریکا کی تہران پر عاید کردہ حالیہ اقتصادی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکا نے حال ہی میں پاسداران انقلاب، ایران کی کئی سرکردہ سیاسی اور حکومتی شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں۔

خیال رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے سے قبل بھی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں غیرمعمولی کمی آئی تھی تاہم جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد جیسے جیسے ایران پر عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کی جانے لگی تو اس کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر میں بھی استحکام آیا تھا۔