.

اسرائیل سے مذاکرات نہیں تو فلسطینی مشن بند: امریکا کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں دھمکی دی ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین یعنی پی ایل او نے اسرائیل کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا تو وہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تنظیم کا دفتر بند کر دے گا۔

ایک امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے جو اس بات کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ اگر فلسطینیوں نے عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائی پر مجبور کیا تو پی ایل او کے دفتر کی بندش عمل میں لائی جائے۔

ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اس لائن کو اُس وقت پار کر چکے ہیں جب انہوں نے عالمی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی کارروائیوں کی تحقیقات اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس 90 دن کا وقت ہے جس میں وہ فیصلہ کریں گے کہ آیا فلسطین؛ اسرائیل کے ساتھ براہ راست اور با معنی مذاکرات میں شریک ہے یا نہیں۔ اگر امریکی صدر نے مثبت فیصلہ کیا تو پھر فلسطینی اپنے مشن کا دفتر برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی حکام یہ باور کرا چکے ہیں کہ مذکورہ دفتر بند ہو جانے کی صورت میں بھی وہ فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھیں گے۔