.

امریکی فوجی اڈے یا جنسی جرائم کے مراکز؟

امریکی فوجی اڈوں میں جنسی تشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے کل جمعہ کے روز پہلی بار فوج کے اندرون اور بیرون ملک قائم فوجی اڈوں میں ہونے والے جنسی جرائم کے متعلق چونکا دینے کے لیے انکشافات کیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکا کے اندر اور باہر دوسرے ملکوں میں قائم کردہ امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے جنسی تشدد اور جنسی جرائم کے ہزاروں واقعات کی شکایات ملی ہیں۔ فوج ان واقعات کی چھان بین کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنسی تشدد اور اس طرح کے دیگر گھناؤنے جرائم میں ریاست ورجینیا میں قائم ’نور فالک‘ بحری اڈہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک جنوبی کوریا میں قائم امریکی فوجی اڈوں پربھی جنسی ہراسانی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

فوجی رپورٹ میں بتایا گیا ہے جنسی ہراسانی کے یہ واقعات خواتین کو نازیبا اور غیر مناسب انداز میں چھونے سے لے کر ان کی آبرو ریزی جیسے واقعات تک پھیلی ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ 2016ء میں فوج میں خدمات انجام دینے والے کم سے کم تین اہلکاروں کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی کوریا میں قائم کردہ امریکی فوجی اڈے سے گذشتہ برس 211 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جب ورجینیا میں قائم نورفالک نیوی اڈے پر جنسی تشدد کے 270 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی تشدد کے شکار فرد کی جانب سے بتائی گئی جگہوں کی نشاندہی کی گئی مگر ان کی وضاحت کرنا ضروری نہیں۔

گذشتہ برس ٹیکساس میں قائم’فورٹ ہوڈ‘ فوجی اڈے پر جنسی تشدد کے 199 واقعات سامنے آئے، کیلیفورنیا میں بحریہ کے سان ڈییگو میں 187، شمالی کیرولینا میں کیمپ لیگون میں 169، کیلیفورنیا کے بنڈلیٹن میں 157،شمالی کیرولینا کے فورٹ براگ 146 واقعات سامنے آئے۔

امریکی وزارت دفاع کے مطابق گذشتہ برس مجموعی طور پر فوجی اڈوں پر جنسی تشدد کے 6172 واقعات سامنے آئے۔2015ء میں معمولی فرق کے ساتھ 6082 واقعات سامنے آئے تھے جب کہ 2012ء میں امریکی فوجی اڈوں پر جنسی تشدد کے 3604 واقعات کا اندراج کیا گیا۔