.

برطانوی جج نے بچی کو 15 سال تک مصر جانے سے کیوں روکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالتوں کی طرف سے بعض اوقات ملزمان کو حیران کن سزائیں یا ان کے حق یا مخالفت میں عجیب وغریب فیصلے سنائے جاتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی عدالت نے ایک ملزم کو تین سال تک پابندی کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرنے کی سزا سنائی تو حیران رہ گئے۔

برطانیہ میں ایک خاتون جج نے ایک نو مسلم خاتون کو اپنی ایک سالہ اکلوتی بیٹی کو مصر لے جانے سے اس لیے منع کیا کہ جج کو خدشہ ہے کہ مصر میں بچی کے ختنے کیے جا سکتے ہیں۔ اس وقت بچی کی عمر ایک سال ہے جب کہ عدالت نے اسے 16 سال کی عمر تک یعنی سنہ 2032ء تک مصر نہ لے جانے کے لیے کہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی ایک نوجوان لڑکی نے ایک مصری سے متاثرہو کر اپنا مذہب تبدیل کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے ساتھ شادی کی۔ دونوں ایک بچی کے والدین ہیں۔

حال ہی میں جب بچی کی والدہ سسرالی ملک مصر جانے کی تیاری کرنے لگیں تو انگلینڈ کی خاتون جج ’جسٹس روسل‘ نے شیر خوارہ کو اپنے ساتھ مصر لے جانے سے روک دیا۔

خاتون جج کا کہنا تھا کہ مصرمیں چونکہ بچیوں کے ختنے بھی معمول کی بات ہے۔ اس لیے اس بچی کے بھی ختنے کیے جاسکتے ہیں کیونکہ برطانیہ کا قانون اس طرح کے کسی عمل کی اجازت نہیں دیتا۔

اگرچہ بچی کے والد اور دیگر اقارب نے خاتون جج کو یقین دلایا کہ وہ مصرمیں بچی کے ختنے نہیں کرائیں گے تاہم عدالت مطمئن نہیں ہوسکی۔ یہ اسٹوری برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے بھی شائع کی ہےاور بتایا کہ بچی مزید پندرہ سال مصر نہیں جا سکے گی۔ بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر مصر میں ایک ہوٹل میں ملازم ہیں۔ وہ ان سے اور دیگر اہل خانہ سے ملنا چاہتی ہیں۔ بچی کی پیدائش برطانیہ میں ہوئی ہے اور اس کے والد نے ابھی تک اسے دیکھا بھی نہیں۔ تاہم عدالت نے یہ تمام باتیں مسترد کر دیں اور کہا کہ بچی کو خطرہ ہے کیونکہ مصر میں بچیوں کے ختنے عام سی بات ہے۔