.

ظلم کی انتہا: 10 سالہ بھارتی لڑکی کا تین مردوں کے ہاتھوں تین ماہ تک ریپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی شہر بھوپال میں تین مرد تین ماہ تک ایک دس سالہ لڑکی کو مبینہ جنسی زیادتیوں کا نشانہ بناتے رہے۔ ملزمان میں ایک پینسٹھ سالہ چوکیدار بھی شامل ہے۔ اس جرم کے بار بار ارتکاب میں ایک خاتون نے بھی تینوں ملزمان کی مدد کی۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے میڈیا کے توسط سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے بتایا کہ وسطی بھارت کے شہر بھوپال میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ قریب ایک سہ ماہی تک ان جنسی جرائم کا ارتکاب ایک ایسے رہائشی علاقے میں کیا جاتا رہا، جہاں ملزمان بھی اس لڑکی کے گھر کے قریب ہی رہتے تھے۔

پولیس کے مطابق اس بچی کو جنسی حملوں کا نشانہ ایک ایسے گھر میں بنایا جاتا رہا، جس کی خاتون مالکہ بھی اس جرم کی ایک شریک ملزمہ ہے۔ اس بچی کی والدہ مقامی طور پر ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ بھوپال کے ایک پولیس اہلکار شیوناتھ یادوونشی نے میڈیا کو بتایا کہ اس بچی نے جمعرات سولہ نومبر کو اپنی والدہ سے شکایت کی تھی کہ اسے جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس پر اس کی والدہ نے پولیس کو اطلاع کر دی۔

پولیس اہلکار شیوناتھ یادوونشی نے کہا، ’’پہلی بار اس گھر کی خاتون مالکہ نے اس بچی کو اگست کے مہینے میں چاکلیٹ دینے کے بہانے اپنے گھر میں بلایا تھا، جہاں اس بچی کا ریپ کیا گیا۔ پھر اسی خاتون اور تینوں ملزمان نے اس بچی کو دھمکیاں دی تھیں کہ وہ کسی سے اپنے خلاف ان جرائم کا کوئی ذکر نہ کرے۔‘‘

پولیس نے مزید بتایا کہ ان جرائم میں ملوث چاروں ملزمان، جن میں ایک خاتون کے علاوہ ایک 65 سالہ مقامی چوکیدار بھی شامل ہے، کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے وقت جب چند مقامی باشندوں کو پتہ چلا کہ یہ ملزمان مبینہ طور پر کن جرائم کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، تو انہوں نے طیش میں آ کر ان ملزمان کی پٹائی بھی کی۔

استغاثہ کے مطابق تمام ملزمان پر اجتماعی جنسی زیادتی کے باقاعدہ الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔ ’’یہ چاروں اس وقت جیل میں ہیں۔ اب ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔‘‘

بھارت گزشتہ چند برسوں سے اپنے ہاں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے پے در پے سامنے آنے والے واقعات کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر سرخیوں کا موضوع بنتا رہا ہے۔ 2012ء میں نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ایک چلتی بس میں گینگ ریپ اور پھر قتل کے واقعے کے خلاف پورے ملک میں وسیع تر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور اس واقعے کے بعد حکومت نے خواتین کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق قوانین مزید سخت بھی بنا دیے تھے لیکن تاحال ملک میں ایسے جرائم کی شرح میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی۔