.

چار شعبوں میں 70 ہزار ملازمتیں سعودی خواتین کی منتظر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں چار شعبوں میں خواتین کو 70 ہزار ملازمتیں دلوانے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

یہ بات سعودی عرب کے تخلیق ملازمت اور روزگار کمیشن کے سینیر عہدہ دار عبداللہ الحربی نے ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ کمیشن مارکیٹنگ اور اشتہارات کے شعبے میں خواتین کو 2030ء تک 10 ہزار ملازمتیں دلوانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔آیندہ بارہ سال کے دوران میں حسابات کے شعبے میں 11 ہزار ،ادویہ سازی اور ادویہ کی فروخت کے شعبے میں 20 ہزار اور کمپیوٹر پروگرامنگ میں خواتین کے لیے 29 ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

ملازمتی کمیشن کے گورنر عمر البطاطی نے جدہ میں منعقدہ دسویں انسانی وسائل فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن سائنسی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کررہا ہے اور اس ضمن میں سرکاری اور نجی شعبوں سے تعاون کررہا ہے۔

کمیشن کے پروگراموں کے تحت ہائی اسکول گریجو ایٹس کی تعلیمی صلاحیت میں اضافے ،اضافی قدری ٹیکس پر کام کے قابل بنانے کے لیے کنسلٹینٹس کی تربیت اور گریجوایٹس کی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کو بہتر بنانے پر کام کیا جارہا ہے تا کہ انھیں بہتر ملازمتوں پر تقرر میں مدد مل سکے۔

البطاطی نے بتایا کہ اس وقت سعودی مارکیٹ میں 80 لاکھ تارکین وطن کام کررہے ہیں اور مقامی افراد کے لیے سات لاکھ ملازمتوں کی ضرورت ہے۔
رولاکو کی بورڈ ممبر لاما السلیمان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کی ضرورت ہے ۔اس سے کاروباروں کی چوتھے صنعتی انقلاب کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

دسواں جدہ انسانی وسائل فورم اتوار کو شروع ہوا تھا اور یہ بدھ کو اختتام پذیر ہوگا ۔اس کا عنوان ’’ پیداوار یت بڑھانے کے لیے تبدیلی ‘‘ ہے اور یہ مکہ ریجن کے امیر ( گورنر) اور خادم الحرمین الشریفین کے مشیر شہزادہ خالد الفیصل کی سرپرستی میں منعقد کیا جارہا ہے۔