.

مجوز ہ شامی کانگریس سے اقوام متحدہ کے تحت جنیوا امن عمل کو تقویت ملے گی: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ترکی اور ایران کے لیڈروں نے مجوزہ شامی پیپلز کانگریس کے کانو وکیشن کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تمام گروپوں کی مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے یہ ایک اہم قدم ثابت ہوگی ۔

روسی صدر نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن اور ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے جنوبی شہر سوچی میں بدھ کو ملاقات کے بعد کہا ہے کہ تینوں رہ نماؤں نے اپنے اپنے سفارت کاروں اور سکیورٹی اور دفاعی اداروں کو کانگریس کی تاریخ اور اس کے شرکاء کا تعیّن کرنے کے لیے کام کی ہدایت کی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ترکی اور ایران کے صدر نے شامی رجیم اور حزبِ اختلاف کی سوچی شہر میں ایک کانگریس کے انعقاد سے اتفاق کیا ہے اور اس کا مقصد جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت شام امن مذاکرات کو تقویت بہم پہنچانا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس موقع پر بتایا کہ’’ سربراہ اجلاس میں شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اس ضمن میں کشیدگی میں کمی کے لیے آستانہ مذاکرات سے حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر جنیوا میں سیاسی عمل کو فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے‘‘۔

ترک صدر نے شام میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل کے فروغ اور اس میں نئی شامی جماعتوں کی شمولیت پر زوردیا ہے ۔

سوچی میں اس سہ فریقی بات چیت کے بعد ولادی میر پوتین نے کہا کہ ’’شامی قیادت نے امن عمل ، آئینی اصلاحات اور آزادانہ انتخابات کا وعدہ کیا ہے اور تینوں صدور نے شام میں دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ مجوزہ کانگریس میں شام کی مختلف سیاسی جماعتوں اور ملک کے اندر اور باہر موجود حزب ِاختلاف کے نمائندے شرکت کریں گے اور وہ ریاست کے مستقبل کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔یہ کانگریس شامی مسئلےکے حل کے لیے جنیوا امن عمل کو فعال کرنے میں ایک مہیج اور محرک کا کام دے گی‘‘۔