.

اسلامی دانشور پر زیادتی کا الزام عاید کرنے والی ہندہ کو پولیس سیکیورٹی مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ اسلامی دانشور طارق رمضان کے خلاف جنسی حملوں کا الزام عاید کرنے والی خاتون ہندہ عیاری کو فرانس میں پولیس سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔ ہندہ کے وکیل کے مطابق یہ اقدام ان کی موکلہ کی توہین اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا ہے۔

وکیل کے مطابق سخت گیرسلفی نظریات سے تائب ہو کر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سیکولر ہندہ عیاری کو گذشتہ ایک مہینے سے ان کے فیس بک اور ٹویٹر اکاونٹ پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ نیز ان کے گھر آنے والے افراد اور فون پر لگائی گئی ریکارڈنگ مشین پر بھی انھیں جان سے مارنے کی دھکمیاں دی جا رہی ہیں۔

عیاری کے وکیل جونس حداد نے مزید بتایا کہ یہ سب معمولی بات نہیں۔ ایسی دھمکیوں پر تین سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسے روکا جانا چاہیے۔

فرانسیسی شہر روآن کے پراسیکیوٹر پاسکل پریک نے شکایت موصولی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شکایت کنندہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اس کی مزید تحقیقات ہو رہی ہے۔

اپنی شکایت میں عیاری نے اپنے خلاف جاری تبصروں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں یہودیوں اور صہیونیوں کی زر خرید فاحشہ قرار دیا گیا ہے۔

طارق رمضان کے خلاف ہندہ عیاری سمیت تین خواتین پر جنسی حملوں، تشدد اور جان سے مارنے جیسی دھمکیوں سے متعلق الزامات کی پیرس میں تفتیش ہو رہی ہے۔