.

یو اے ای :8 سالہ بچے کا اردنی قاتل فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت سے ہم کنار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ایک آٹھ سالہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے اردنی مجرم ندال عیسیٰ عبداللہ کو جمعرات کی صبح فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا گیا ہے ۔ مجرم نے مئی 2016ء میں عبیدہ نامی لڑکے سے بدفعلی کی تھی۔

دبئی کے چیف پراسیکیوٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ آج صبح مجرم کو دبئی کی سنٹرل جیل میں اس کی کوٹھڑی سے لایا گیا تھا۔ وہ وہاں سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکمراں کے حکم کا منتظر تھا۔ ایک خصوصی ٹیم نے اعلیٰ افسروں اور سینیر پراسیکیوٹرز کی موجودگی میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے‘‘۔

فروری میں دبئی کی ایک اپیل عدالت نے اردنی مجرم اڑتالیس سالہ ندال عیسیٰ عبداللہ کی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل کو مسترد کردیا تھا اور ماتحت فوجداری عدالت کی جانب سے اس کو سنائی گئی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

واضح رہے کہ مقتول عبیدہ ابراہیم آل اقرباوی کی لاش مئی 2016ء کے ایک اتوار دبئی کے علاقے الورقا سے ملی تھی۔وہ اس سے دو روز پہلے جمعہ کو شارجہ کے انڈسٹریل ایریا سے لاپتا ہوگیا تھا اور اس کو آخری مرتبہ اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اماراتی پولیس نے اڑتالیس سالہ ندال عیسیٰ عبداللہ کو اس بچے کے قتل کے شُبے میں گرفتار کیا تھا۔استغاثہ کے مطابق اس نے پہلے عبیدہ سے زیادتی کی تھی اور پھر اس کو گلا دبا کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔اس نے اماراتی پولیس کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کر لیا تھا۔

دبئی پولیس کے سربراہ میجر جنرل خامس الموزینہ کے مطابق اس بچے کو شارجہ انڈسٹریل ایریا سے ایک گیراج کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا۔اس کا والد اس گیراج میں کام کرتا تھا۔اس کے سینے اور ہاتھوں پر سختی سے پکڑنے اور دبانے کے نشانات پائے گئے تھے اور اس سے جنسی بدفعلی کی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات میں اغوا اور قتل کی سزا موت ہے اور ایسے مجرموں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔اماراتی شہریوں نے اس بچے کے اندوہناک قتل پر سوشل میڈیا پر اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے اس کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ تب ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ''عبیدہ کے قاتل کو سرعام تہ تیغ کیا جائے'' سرفہرست رہا تھا اور اس کو قریباً دس لاکھ صارفین نے ملاحظہ کیا تھا۔