.

بدعنوانی مخالف مہم کو طاقت کا اظہار قرار دینا مضحکہ خیز ہے: سعودی ولی عہد

شاہی خاندان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے،شہزادہ محمد کی انسداد بدعنوانی مہم ، اسلام اور خواتین کے حقوق کے بارے میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ مملکت میں بدعنوانی مخالف مہم کو مخالفین کے خاتمے کے لیے طاقت کے اظہار کی کوشش قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں بدعنوانی کے الزام میں زیر ِحراست نمایاں شخصیات تو پہلے ہی ان کی بیعت کرچکی تھیں اور انھیں شاہی خاندان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے یہ باتیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے کالم نگار تھامس ایل فرائیڈمین کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ’’1980ء کے عشرے سے آج تک ہمارے ملک کو بدعنوانیوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ہمارے ماہرین کے اندازے کے مطابق حکومت کے کل اخراجات میں سے 10 فی صد ہر سال کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔یہ بدعنوانی بالائی سطح سے نچلی سطح تک ہوتی ہے‘‘۔

نیویارک ٹائمز نے فرائیڈمین سے سعودی ولی عہد کی یہ گفتگو مضمون کی شکل میں شائع کی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران میں حکومت نے ایک سے زیادہ مرتبہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا لیکن وہ ہر مرتبہ ناکام رہی تھی۔کیوں؟ کیونکہ یہ سب مہمیں نچلی سطح سے شروع کی گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے کرپشن کے الزام میں گرفتار افراد کو ان کی فائلیں دکھائی ہیں ،ان میں سے 95 فی صد نے تصفیے سے اتفاق کیا ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ نقد رقوم یا اپنے کاروباروں کو ایک حصے کو سعودی عرب کے سرکاری خزانے کو واپس کرنے پر آمادہ ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پبلک پراسیکیوٹر کے بہ قول اس طرح 100 ارب ڈالرز کا تصفیہ ہوسکتا ہے اور وہ قومی خزانے کو واپس مل سکتے ہیں۔

یمن تنازع

نیو یارک ٹائمز کے مضمون کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بات بالاصرار کہی ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں جاری جنگ کا صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت میں پانسا پلٹ رہا ہے اور اس کے تحت فورسز کا اس وقت ملک کے 85 فی صد حصے پر کنٹرول ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا ملک کے باقی علاقوں پر قبضہ ہے اور وہ وہاں سو فی صد مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔انھوں نے ہی سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب بیلسٹک میزائل داغا تھا۔

خواتین کے حقوق

سعودی ولی عہد نے کالم نگار کو مخاطب کر کے کہا:’’ یہ نہ لکھیے کہ ہم اسلام کی نئی تعبیر وتشریح کررہے ہیں بلکہ ہم اسلام کو اس کی اصل شکل میں بحال کررہے ہیں۔ہمارے لیے مشعل راہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ہم 1979ء سے قبل کی (سعودی معاشرتی )زندگی کی بحالی چاہےل ہیں‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے دلیل پیش کی ہے کہ’’ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موسیقی تھی ( لوگوں کو دف بجانے کی اجازت تھی)۔خواتین اور مرد اکٹھے ہوسکتے تھے اور حجاز عرب میں عیسائیوں اور یہود کا احترام کیا جاتا تھا۔مدینہ منورہ میں کاروباری امور کی پہلی جج ایک خاتون تھیں۔یہ سب کچھ اسلام کے اولین دور میں تھا‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں درست وقت میں ایک درست آدمی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حمایت سے سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادی ایران کے خطرے کے مقابلے کے لیے آہستہ آہستہ ایک اتحاد تشکیل دے رہے ہیں۔