.

حوثیوں نے عدالتوں کو فوجی ہیڈکوارٹر بنا لیا: یمنی وزیر قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں اور باغی حوثی ملیشیا کے جنگجووں نے عدالتوں پر حملوں کے بعد وہاں لوٹ مار کی اور بعد میں استغاثہ کے دفاتر سمیت عدالتوں کو فوجی ہیڈکوارٹرز میں تبدیل کر دیا۔ اس امر کا انکشاف یمنی وزیر قانون جمال محمد عمر نے عرب وزراء قانون کے زیر اہتمام قاہرہ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

جمال عمر کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے اہلکاروں اور ججوں کو ایک برس سے مشاہرہ نہیں ملا۔ اپنے زیر نگین علاقے کی متعدد عدالتوں کے ججوں اور وکیلوں کو باغیوں نے کام سے روک کر گرفتار کر رکھا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یمن کی سپریم جوڈیشل کونسل اور سپریم کورٹ نے ملک کے عارضی درارلحکومت عدن میں اپنے مرکزی دفاتر کھولے ہیں۔

درایں اثنا مقامی انتظامیہ کے یمنی وزیر عبدالرقیب فتح نے بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بندرگاہ، ہوائی اڈوں بشمول دارلحکومت صنعاء کا ہوائی اڈا اور الحدیدہ بندرگاہ یمنی علاقوں کو انسانی بنیادوں پر امداد پہنچائیں تاکہ تمام ضرورت مندوں کی مدد ہو سکے۔

انھوں نے امدادی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سپریم ریلیف کمیٹی کے ساتھ مل کر یمن کے مختلف صوبوں میں امدادی کام کو مربوط کریں۔