.

زمبابوے کے نئے ’’مگر مچھ‘‘ صدر ایمرسن نانگاگوا کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زمبابوے کے نئے صدر ایمرسن نانگا گوا نے جمعہ کو ہزاروں افراد کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ان کی حلف برداری کی تقریب دارالحکومت ہرارے کے قومی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔

75 سالہ ایمرسن ’’ مگر مچھ ‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں اور وہ ماضی میں ملک کے سکیورٹی چیف رہ چکے ہیں۔ دو ہفتے قبل تک وہ ملک کے نائب صدر تھے لیکن سبکدوش صدر رابرٹ موگابے نے انھیں برطرف کردیا تھا۔انھوں نے حلف برداری کے بعد تقریر میں ملک کے آئین اور ایک کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی کے تحفط کا عزم کیا ہے۔

ان کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی زمبابوے کے سابق مرد آہن رابرٹ موگابے کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔اگرچہ زمبابوے کے عوام کی اکثریتی نے ترانوے سالہ موگابے کے اقتدار کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان میں سے بہت سے نئے صدر ایمرسن کے دورحکومت میں ملک کے مستقبل کے حوالے سے مشوش ہیں۔

انھوں نے مٹابیل لینڈ میں 1983ء میں گوکرا ہنڈی قتل عام میں ایمرسن کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔تب شمالی کوریا سے تربیت یافتہ زمبابوے کی فوج کی پانچویں بریگیڈ نے صدر موگابے کے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اور اس میں قریباً بیس ہزار افراد مارے گئے تھے۔

ایمرسن نانگا گوا اس قتل عام میں اپنے کسی قسم کے کردار کی تردید کرتے ہیں اور وہ بیرون ملک دو ہفتے تک روپوش رہنے کے بعد سے وطن واپسی کے بعد سے جمہوریت ،رواداری اور قانون کی حکمرانی کے حق میں بیانات جاری کررہے ہیں لیکن رابرٹ موگابے کے قریبی ساتھیوں کے خلاف فوج کے زیر حراست تشدد پر لوگوں کی تشویش دور نہیں ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اگنیشس شومبو فوج کے زیر حراست تشدد سے زخمی ہوگئے ہیں اور اس وقت اسپتال میں داخل ہیں۔

رابرٹ موگابے نے اپنے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد گذشتہ منگل کو ملک میں پُرامن انتقال اقتدار کے لیے رضاکارانہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس وقت ارکان پارلیمان ان کا مواخذہ کررہے تھے ۔موگابے گذشتہ سینتیس سال سے زمبابوے کے صدر چلے آرہے تھے اور وہ دنیا کے سب سے ضعیف العمر سربراہ ریاست تھے۔نئے صدر ایمرسن نے گذشتہ روز موگابے سے پہلی ملاقات میں انھیں اور ان کے خاندان کو تحفظ کا یقین دلایا تھا۔

واضح رہے کہ رابرٹ موگابے کو اسی ہفتے حکمراں جماعت زانو پی ایف کی صدارت سے بھی برطرف کردیا گیا تھا اور ان کی جگہ سابق نائب صدر ایمرسن ناگاگوا کو نیا صدر منتخب کر لیا گیا تھا۔ رابرٹ موگابے نے نائب صدر ایمرسن نانگاگوا کو دو ہفتے قبل برطرف کر دیا تھا جس کے بعد ملک میں بحران پیدا ہوگیا تھا اور لوگ ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ وہ ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ان مظاہروں کے بعد فوج نے دارالحکومت ہرارے اور دوسرے شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔