.

سعودی عرب کا آئندہ برس سے سیاحتی ویزا دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے آئندہ برس سے سیاحت کے لیے ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا سکیں گی۔

سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے سربراہ سلطان بن سلمان نے امریکی نشریاتی ادارے “سی این این” کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ہمارا ہدف ہے کہ لوگ یہاں آئیں اور ہماری ریاست کی عظمت کا خود تجربہ کریں۔ ہمیں امید ہے کہ سال 2018ء میں ہم سیاحتی ویزے کا اجرا شروع کر دیں گے۔ ویزے کا حصول آسان بنانے کے لیے درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا سکیں گی۔

سلطان بن سلمان نے کہا “کہ ہمارے کمیشن کا مقصد سیاحوں کی تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے۔ ہمارے اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب کے مقامی شہری سیاحت کی مد میں سالانہ 20 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں اس میں کمی کے پیش نظر سیاحتی مقامات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے پر کام جاری ہے اور اب سیاحتی ویزوں کے اجرا سے اس آمدنی میں اضافہ ہوگا۔”

اس ضمن میں سعودی حکومت نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے نزدیک بحیرہ احمر میں واقع جزیروں میں انفرااسٹرکچر قائم کرکے انہیں سیاحت کے لیے تیار کیا جائے گا۔ وہاں سیر وتفریح کی سہولیات میسر کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 2022ء تک مکمل ہو جائے گا۔ قبل ازیں سعودی عرب کی جانب سے انٹرٹینمنٹ سٹی کے قیام، تھیم پارک بنانے سمیت دیگر سیاحتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب تیل کی گرتی ہوئی قیمت کے سبب ریاست کی کم ہوتی ہوئی آمدنی کو بڑھانے کے لیے نت نئے ذرائع تلاش کرنے میں مصروف ہے، جن میں سعودی عرب میں موجود ہر غیر ملکی اور اہل خانہ پر ٹیکس کا نفاذ، خام تیل کی قیمت میں اضافہ، تمباکو اور سافٹ ڈرنک پر ٹیکس عائد کرنا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ سعودی عرب میں اس کے علاوہ بھی مختلف اصلاحات کی جا رہی ہیں جن میں تاریخ میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ اور فٹ بال میچز کے لیے گراؤنڈ جانے کی اجازت سرفہرست ہیں۔