.

شام میں داعش کی شکست کا کریڈٹ لینے کی ایرانی کوشش

عالمی اتحاد کی مساعی نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں 2011ء کے بعد سے جاری خانہ جنگی میں ایران کی طرف سے اسد رجیم کی بھرپور حمایت اور مدد تو کی جاتی رہی ہے مگر شدت پسند گروپ ’داعش‘ کو شام میں شکست سے دوچار کرنے کا سہرا شامی اپوزیشن فورسز کے بعد اگر کسی اور کو جاتا ہے تو وہ عالمی عسکری اتحاد ہے جس کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں شام میں داعش کی کمر توڑ دی گئی۔

دوسری طرف ایران شام میں داعش کی شکست کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اس کا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے۔ ایرانی سیاسی، عسکری قیادت اور ذرائع ابلاغ کے بیانات اور رپورٹس میں اس حوالے سے کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔

حال ہی میں صدر حسن روحانی نے شام میں داعش کو شکست دیے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے داعش کی شکست کا کریڈٹ عالمی اتحاد کے بجائے اسد حکومت کو دینے کی کوشش کی ہے۔

صدر روحانی کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کو شکست ایرانی اور شامی اقوام کے لیے خوشی کی خبر ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی شام کے بوکمال شہر میں داعش کو دی گئی شکست کو اسد نواز فورسز کی کارروائیوں کا نتیجہ اور ایرانی فورسز کے آپریشنز کا ثمر قرار دے کر عالمی عسکری اتحاد کی کوششوں کو نظر انداز کیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ بڑھ چڑھ کر البوکمال شہر سے داعش کو نکال باہر کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف البوکمال بلکہ شام کے دوسرے شہروں سے بھی داعش کے شکست دینے میں عالمی اتحادی فوج کا کوئی کردار نہیں بلکہ اسے ایران نواز فورسز کے ہاتھوں شکست سے دوچار کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران ایک طرف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں اس کا کوئی براہ راست کردار نہیں۔ ایرانی فوج شام میں لڑائی کے لیے نہیں بلکہ محض مشاورتی اور تربیتی مقاصد کے لیے موجود ہے۔ مگر خود ایران یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اس نے داعش کو شام میں شکست سے دوچار کیا ہے۔

اس کے علاہ شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ایران کو اپنے 3500 فوجی افسران اور اہلکار قربان کرنا پڑے ہیں۔ سنہ 2012ء کے بعد سے شام کے کئی شہروں میں ایرانی ملیشیاؤں اور اجرتی قاتلوں کی بڑی تعداد لائی جاتی رہی۔ داعش کے خلاف ایران کے البوکمال شہر میں تازہ لڑائی میں صرف پانچ ایرانی فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتیں سرحدی علاقے التنف میں ہوئی تھیں۔

ادھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شام میں داعش کی شکست کو امریکا کی شکست قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش امریکا کی پیداوار تھی اسے ایران اور اس کی معاون فورسز نے اسد رجیم کے ساتھ مل کر شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔

سپریم لیڈر نے ان خیالات کا اظہار پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو لکھے گئے ایک تہنیتی مکتوب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کی شکست مزاحمتی محور قوتوں کی فتح ہے۔ عراق میں الحشد الشعبی، لبنان میں حزب اللہ اور شام میں لائے گئے ایرانی، پاکستانی اور افغان جنگجوؤں کی قربانیوں سے داعش کو شکست سے دوچار کیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے بھی عراق اور شام میں داعش کی شکست کو ایران اور مزاحمتی فورسز کی معاونت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

شام میں نہتے شہریوں کا قتل عام

شام میں لڑائی کے دوران ایرانی فوجی افسروں، اہلکاروں، ملیشیاؤں اور دیگر اجرتی قاتلوں نے ہزاروں نہتے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا۔ شامی اپوزیشن کے خلاف شروع کی گئی لڑائی کے دوران ایرانی جنگجوؤں نے عام شہریوں کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری مارے گئے۔

ایرانی حکومت شام میں اپنے حمایت یافتہ گروپوں کی کارروائیوں سے ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد کہہ کر قاتلوں کو بری کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی۔ دوسری طرف شام میں لڑتے ہوئے اپنے مرنے والے فوجیوں کو شام میں مقدسات کے دفاع ’شہید‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ شام میں مارے جانے والے ایرانی دراصل ایران کی سلامتی پر قربان ہوئے ہیں۔

داعش کے ظہور میں ایرانی کردار

ایران کے اصلاح پسند حلقوں کی طرف سے حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اصلاح پسندوں کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں داعش کے وجود اور اس کی تقویت میں ایرانی پاسداران انقلاب کا بھی کلیدی کردار ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے ایک سابق عہدیدار اور اصلاح پسند رہ نما مصطفیٰ تاج زادہ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں ایران کی فوجی مداخلت نے داعش جیسے گروپوں کو جنم دینے اور انہیں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ داعش کسی حادثے کی پیدوار نہیں بلکہ یہ ایران کی مداخلت کا نتیجہ ہے۔

خیال رہے کہ مصطفیٰ تاج زادہ سنہ 2009ء میں ایران میں شروع ہونے والی سبز انقلاب تحریک میں پیش پیش رہے ہیں اور اس تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں انہیں سات سال تک جیل میں ڈالا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے یہ کہنا کہ اگر ہم دمشق اور حلب میں نہ لڑتے تو ہمیں یہ لڑائی ایران کے شہروں میں لڑنا پڑتی ایرانی رجیم کی بدترین نسل پرستی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام اور عراق میں جتنے ایرانی فوجی، پاسداران انقلاب کے اہلکار اور دیگر ایرانی ملیشیاؤں کے عناصر مارے گئے ان کی ذمہ داری ایرانی حکومت پر عاید ہوتی ہے۔ ایران نے ایک سازش کے تحت داعش کی عمر کو طول دینے اور اسے باقی رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کے ایک دوسرے اصلاح پسند رہ نما غلام حسین کرباسجی نےایرانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ شام سے اپنی فورسز واپس بلائے۔ شام میں ایران کا کردار سیاسی اور سفارتی حدود تک ہونا چاہیے۔ جنگ، قتل عام اور لوٹ مار کے ذریعے ایران اپنی قومی سلامتی کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔