.

امریکا نے شام میں کرد گروپوں کو مسلح نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے ٹیلیفون پر اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ دونوں سربراہان کی بات چیت کا محور شام کا تنازع رہا۔

جمعے کے روز اخباری بیان میں اوگلو نے بتایا کہ ٹرمپ نے ایردوآن کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شام میں کُرد گروپوں کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی جائے گی۔

دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب کو آگاہ کیا کہ " رقّہ کا معرکہ اختتام پذیر ہو چکا ہے اور اب استحکام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ داعش تنظیم کے واپس نہ آنے کو یقینی بنایا جا سکے"۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں امریکا کی جانب سے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو پیش کی جانے والی سپورٹ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان اختلاف کا نمایاں ترین نکتہ ہے۔