.

"ادب کا نوبل انعام" بھی جنسی ہراسیت کے طوفان کی لپیٹ میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں ادب کا نوبل انعام پیش کرنے والی اکیڈمی بھی جنسی ہراسیت کے الزامات کے طوفان کی زد میں آ گئی ہے۔ اکیڈمی کی کئی خواتین ارکان کے علاوہ مرد ارکان کی بیگمات اور بیٹیوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ادارے سے قریبی تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کی جانب سے جنسی حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔

اس معاملے نے ایک ہفتے سے سویڈن جیسے ملک کے ادبی حلقوں میں بھونچال پیدا کر دیا ہے جو دنیا بھر میں جنسی مساوات کے حوالے سے بہترین مانا جاتا ہے۔ البتہ اب یہاں تقریبا روزانہ کی بنیاد پر سینیما ، تھیٹر اور موسیقی کی دنیا میں ہراسیت کے بارے میں نئے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

سویڈن میں کثیر الاشاعت اخبار Dagens Nyheter نے 18 خواتین کی گواہی پیش کی ہے جنہوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اسٹاک ہوم میں ایک انتہائی با اثر ثقافتی شخصیت کی جانب سے جنسی حملے یا زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

البتہ سویڈش صحافت کے ضوابط کے تحت مذکورہ شخصیت کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

اس شخصیت کی اہلیہ ایک لکھارن ہے جس کا سویڈش اکیڈمی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

مذکورہ واقعات میں سے بعض 1997 سے 2017 کے درمیانی عرصے میں پیش آئے۔ ان واقعات میں متاثرہ خواتین نے اپنا چہرہ چھپائے بغیر ہی گواہی دی جب کہ اخبار کے مطابق بعض عینی شاہدین نے بھی ان بیانات کی تائید کی۔

ان واقعات میں ملوث شخصیت کے پبلشرز ، تھیٹر کے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز اور صف اوّل کے مصںفین کے ساتھ قریبی تعلقات کے پیش نظر زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین نے اپنے انجام کو خطرے سے دوچار نہ کرنے کے لیے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت جانی۔

جمعرات کی شام "بحران" سے متعلق اجلاس کے بعد سویڈش اکیڈمی نے اعلان کیا کہ اس نے مذکورہ شخصیت کے ساتھ ہر قسم کا تعلق منقطع کر لیا ہے۔ اکیڈمی کے ارکان میں 6 خواتین بھی شامل ہیں۔

اکیڈمی کی جانب سے اس امر کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا کہ آیا یہ شخص انعامات کے پیش کیے جانے کے عمل پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اثر انداز ہوا یا اکیڈمی کی متعلقہ کسی بھی کارروائی میں اس نے اپنا رسوخ استعمال کیا۔