.

امریکا : سگریٹ ساز کمپنیاں تمباکو نوشی سے خبردار کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سگریٹ ساز کمپنیوں کی اکثریت نے اتوار کے روز سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے خبردار کرنے کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں اشتہارات شائع کرانا شروع کر دیے۔

نومبر 2006 میں ایک امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سگریٹ ساز درحقیقت عوام کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے حوالے سے دھوکا دیتے ہیں۔ عدالت نے سگریٹ ساز کمپنیوں کو پابند بنایا کہ وہ اس غلط بیانی کی تصحیح کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں اشتہارات نشر کریں۔ تاہم مذکورہ کمپنیوں نے فیصلے میں بعض تفصیلات کی ترمیم کے واسطے اپیل دائر کر دی تھی اور اس طرح وہ فیصلے پر عمل درامد میں 10 برس سے زیادہ کی تاخیر ممکن بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔

قانون کے مطابق سگریٹ ساز کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ سال میں 5 بار واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے 50 مقامی اخبارات کے ابتدائی صفحات میں ایک مکمل صفحے کا اشتہار شائع کروائیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو سال کے 12 ماہ کے دوران ABC , CBS اور NBC جیسے بڑے چینلوں پر 260 اشتہارات کا سلاٹ خریدنا ہو گا۔

ان اشتہارات میں سخت قسم کی زبان استعمال کی جائے گی۔ مثلا "سگریٹ نوشی روزانہ 1200 امریکیوں کی جان لے لیتی ہے" یا "سگریٹ نوشی درحقیقت جرائم ، ایڈز جیسے مرض ، ٹریفک حادثات اور شراب نوشی کے سبب موت کا شکار ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد سے زیادہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے"۔

سگریٹ نوشی کے سبب ہر سال امریکا میں 4.8 لاکھ افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

البتہ امریکا میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ گزشتہ صدی کی 60ء کی دہائی میں بالغ افراد میں یہ شرح 42% تھی جب کہ 2015ء میں یہ کم ہو کر فقط 15% رہ گئی۔

اس کمی کا سہرا تمباکو پر عائد ٹیکسز اور وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے خطرات سے آگاہی کے لیے چلائی جانے والی مہموں کے سَر ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود سگریٹ ساز کمپنیاں سالانہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے 8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہی ہیں۔