.

دہشت گردی عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہے: اسلامی عسکری اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل اتوار کو سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے 41 مسلمان ملکوں کے عسکری اتحاد کے وزراء دفاع کی سطح کے اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں دہشت گردی کی لعنت کو عالمی امن وسلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الریاض میں ہونے والی وزراء دفاع کانفرنس کے اختتام پرجاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ یہ ناسور ایک سے دوسرے ملک میں منتقل ہو رہا ہے اور ماضی کی نسبت زیادہ مہلک اور خطرناک بن کر معاشروں اور اقوام کی تباہی کا موجب بن رہا ہے۔

اسلامی عسکری اتحاد برائے انسداد دہشت گردی کے سیکرٹری جنرل جنرل عبداللہ الصالح نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتحاد میں شامل تمام ممالک کے وزراء دفاع نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو مزید مربوط بنانے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے سخت ترین اقدامات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں شریک اسلامی ملکوں کے وزراء دفاع نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لیے فکری، ابلاغی، مالی اور عسکری محاذوں پر بھرپور لڑائی لڑنے کے عزم کا بھی اعلان کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردی کے اسباب ومحرکات کو ختم کرنے کے لیے اس کے فکری اور نظریاتی مراکز کو ختم کرنے کی کوش کرے گا۔ انتہا پسندانہ نظریات، اس کے نصاب، پھیلاؤ، معاشرے کےافراد پر اس کے اثرات کی روک تھام کے لیے اسلام کی روشن اور اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں امن بقائے باہمی کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔

ابلاغی میدان میں اتحاد میں شامل ممالک دہشت گری کے منفی پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے بھرپور ابلاغی جنگ کرے گا۔ دہشت گردوں کے ان الات اور ذرائع کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جو دہشت گردی کے پھیلاؤ اور اس کی ترویج کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

دہشت گردی کےمالی سوتوں کو خشک کرنے کے لیے رکن ممالک میں رابطے بڑھائے جائیں گے اور دہشت گردوں کے معاونت کاروں کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ دہشت گردوں کو ملنے والی رقوم روکی جاسکیں۔

اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردی کے خلاف عسکری محاذ پر بھی بھرپور کارروائی پریقین رکھتا ہے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور پوری دنیا کے امن وسلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اسلامی عسکری اتحاد کے اجلاس سےخطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو معاشروں کا امن تباہ کرنے اور اسلام کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے دو سال قبل چالیس اسلامی ممالک پر مشتمل دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اسلامی عسکری اتحاد تشکیل دیا تھا۔

دہشت گردی ایک نظریاتی مسئلہ

الریاض میں ہونے والے اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل محمد العیسیٰ نے کہا کہ دہشت گردی محض ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاصر انتہا پسندی علمی محاذ پر موثر اقدامات نہ ہونے کے نتیجے میں پھیل رہی ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کے لیے اسلام کی تعلیمات کا غلط استعمال کررہےہیں۔

العیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’داعش‘ تنظیم میں 100 سے زاید ملکوں کے دہشت گرد شامل ہوئے۔ داعش میں یورپی ملکوں سے بھرتی ہونے والے افراد کی تعداد پچاس فی صد ہے۔


رکن ممالک کی صلاحیت میں اضافے پر زور

اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دہشت گرد تنظٰمیں اسلام کے پردے تلے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششیں کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کرگئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قوانین کے نفاذ کے لیے خصوصی استعداد اور بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پلان اور منہج کے قیام پر بھی زور دیا۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردوں کے مالی سرچشموں کو خشک کرنے کے لیے کام کرے گا۔ رکن ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون کے فروغ کے ذریعے دہشت گردوں کو شکست دی جائے گی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلامی عسکری اتحاد میں شامل ممالک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مشقیں بھی کریں گے۔

اس موقع پر اردن کے وزیر اطلاعات محمد المومنی نے نے اعتدال پسند ذرائع ابلاغ پر دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی عرب کی مانیٹری فاؤنڈیشن کے گورنر ڈاکٹر احمد بن عبدالکریم الخلیفی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قائم کردہ اسلامی عسکری احاد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے مالی ذرائع کا سدباب کرے گا۔

پاکستانی وفد کے سربراہ نے کہا کہ اسلام آباد اسلامی فوجی اتحاد کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اپنے تجربات سے بھرپور طریقے سے آگاہ کرے گا۔

دہشتگردی سے لڑنے کے عزم کا اعادہ

اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصری فوج کے میجر جنرل توحید توفیق نے کہا کہ دہشت گردی کی سرحدیں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کے ساتھ کارروائی جاری رکھےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مقصد مسلمان ممالک کی آزادیوں کو ختم کرکے اس کی جگہ خلافت کے قیام کئ راہ ہموار کرنا ہے۔ اداروں کی کمزوری اور ان میں پائے جانے والےقیادت کے خلاء سے دہشت گرد ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مشترکہ فوجی مشقیں

اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سیکرٹری جنرل جنرل عبداللہ صالح نے کہا کہ اسلامی اتحاد ایک موثر پلیٹ فارم ہے، اس نے رکن ممالک کے درمیان تعاون او اشتراک عمل کے کئی باب کھولے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف قائم اسلامی فوجی اتحاد کے ارکان ممالک باہمی تعاون کو فروغ دے کر اس لعنت سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

جنرل صالح نے کہا کہ اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ممالک دہشت گردی کی لعنت سے نجات پانے کے لیے نظریاتی، ابلاغی، مالی اور عسکری محاذوں پر مل کر کام کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے متشرکہ فوجی مشقیں کی جائیں گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہم مشترکہ اور موثر مشقیں کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی ہرممکن مدد کریں گے۔