.

علامہ یوسف القرضاوی نے سعودی عرب کے بارے میں مؤقف کیوں تبدیل کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر اور مرکز برائے مطالعات اور اطلاعات کے نگران سعد القحطانی نے سوموار کو قطر میں مقیم مصری عالم یوسف القر ضاوی کی ایک ویڈیو سے متعلق کچھ انکشافات کیے ہیں۔ علامہ یوسف القرضاوی کی یہ ویڈیو 31 مئی 2013ء کو جاری کی گئی تھی اور اس میں انھوں نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بارے میں اپنے ماضی کے مؤقف کے برعکس نقطہ نظر کا اظہار کیا تھا۔

القحطانی نے سوموار کو ٹویٹس کے ایک سلسلے میں کہا ہے کہ یوسف القر ضاوی ( اور اخوان المسلمون) کے نقطہ نظر میں یہ ڈرامائی تبدیلی اس وجہ سے رونما ہوئی تھی کہ امیر قطر نے حزب اللہ کی حمایت پر القرضاوی کی سخت سرزنش کی تھی۔

اس وقت قطر کے وزیر خارجہ حمد بن جاسم نے ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا تھا ۔اس میں قرضاوی کے حزب اللہ کے بارے میں لب ولہجے ، اصولوں اور ان کی حمایت میں تبدیلی ملاحظہ کی جاسکتی تھی۔انھوں نے اس ویڈیو میں حزب اللہ کو حزب الشیطان قرار دیا تھا۔

اس ویڈیو میں یوسف القرضاوی شامی عوام کی حمایت میں ایک میلے کے وقت نمودار ہوئے تھے اور انھوں نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ سعودی علماء حزب اللہ کی حقیقت کو جانچنے میں زیادہ بالغ نظر اور ذہین ثابت ہوئے تھے۔ان کے بہ قول وہ برسوں سے ان گروپوں کے درمیان مصالحت پر زور دیتے رہے تھے لیکن انھوں نے ہمیشہ ان کے اعتماد کو دھوکا دیا اور جب بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کی بات ہوئی تو انھوں نے فریب دیا۔

علامہ یوسف القرضاوی کئی برسوں تک حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا دفاع کرتے رہے تھے اور وہ سعودی عرب میں سرکردہ علماء پر بھی ان کی حمایت کے لیے زور دیتے رہے تھے۔

لیکن انھوں نے حزب اللہ کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی کے بعد کہا تھا:’’ سعودی عرب میں شیوخ مجھ سے زیادہ بالغ نظر ثابت ہوئے تھے اور وہ ان (حزب اللہ) کی حقیقت کو زیادہ بہتر انداز میں جانتے تھے‘‘۔

سعود القحطانی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اخوان المسلمون اور قطر کے حکمرانوں نے واضح حقائق کو تبدیل کرنے اور ان کا رُخ اپنی جانب موڑنے کی کوشش کی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب میں مذہبی مقتدرہ اور مذہبی ادارے ہمیشہ سے اخوان المسلمون اور الحمدین تنظیم کے حملوں کا ہدف ر ہے ہیں‘‘۔