.

اوپیک کا 2018ء کے اختتام تک تیل کی پیداوار میں کٹوتی برقرار رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے 2018ء کے اختتام تک تیل کی پیداوار میں موجودہ کٹوتی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں اس دوران میں تیل کی قیمتوں میں بہتری آتی ہے تو پھر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

یہ فیصلہ جمعرات کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے تیل کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔غیر اوپیک ملک روس نے بھی اس سال کے اوائل میں اپنی تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کردی تھی اور وہ تنظیم سے ایک واضح پیغام کا تقاضا کررہا تھا کہ پیداوار میں کٹوتی کے اس مسئلے سے قیمتوں میں بہتری آنے کی صورت میں کیسے نمٹا جائے گا۔

اوپیک کے رکن ممالک نے گذشتہ سال نومبر میں تیل کی یومیہ پیداوار میں قریباً 18 لاکھ بیرل کمی سے اتفاق کیا تھا اور اس پر جنوری 2017ء سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔اس سمجھوتے کی مدت مارچ میں ختم ہورہی تھی لیکن اب ویانا میں تنظیم کے اجلاس میں اس مدت میں مزید نو ماہ کی توسیع کردی گئی ہے اور 2018ء کے اختتام تک پیداوار میں یہ کٹوتی برقرار ر کھی جائے گی۔

اوپیک نے نائیجیریا کی پیداوار کو بھی کم کرکے 18 لاکھ بیرل یومیہ کے لگ بھگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس نے لیبیا کی پیداوار کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ان دونوں ممالک کو پہلے تیل کی یومیہ پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے سے مستثنا قرار دے دیا گیا تھا۔

اوپیک کے رکن ممالک کا روس کی قیادت میں غیر اوپیک ممالک کے ساتھ بھی آج ایک مشترکہ اجلاس ہونے والا تھا جس میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور متوقع تھا۔

اس اجلاس سے قبل سعودی وزیر تیل خالد الفالح کے علاوہ عراق ، ایران اور انگولا کے وزرائے تیل کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں اگر کوئی مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے تو پھر پیداوار میں کمی کے سمجھوتے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔

جمعرات کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے سودے ایک فی صد اضافے کے ساتھ 64 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے ہیں۔تیل کی فی بیرل قیمت 60 ڈالرز سے بڑھنے کے بعد سے روس اس تشویش کا اظہار کررہا ہے کہ اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی یومیہ پیداوار میں کٹوتی برقرار رکھنے کے فیصلے سے امریکا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ اپنی خام تیل کی پیداوار میں اضافہ کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔