.

سعودی فورسز نے خمیس مشیط میں یمنی حوثیوں کا داغا بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے جمعرات کے روز جنوب مغربی صوبے عسیر میں واقع جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب یمن سے آنے والا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے۔

یمن سے سعودی عرب کی جانب اس ماہ کے دوران میں یہ دوسرا بیلسٹک میزائل حملہ ہے۔اس سے پہلے سعودی فورسز نے 4 نومبر کو دارالحکومت الریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ایک بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا تھا۔

عرب لیگ نے 19 نومبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وزرائے خارجہ کے ایک غیر معمولی اجلاس میں کہا تھا کہ یمن میں مارچ 2015ء میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 78 بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں۔

حوثی باغیوں نے قبل ازیں 10 اکتوبر کو سعودی عرب کے سرحدی علاقے جازان کی جانب زمین سے زمین پر مار کرنے والا ایک میزائل داغا تھا اور وہ ایک گاؤں الجرادیہ میں واقع ایک اسکول کی عمارت پر جا کر گرا تھا ۔ اس سے اسکول کی عمارت اور بعض شہری املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

سعودی فورسز نے ستمبر میں حوثیوں کا خمیس مشیط کے ہوائی اڈے کی جانب چلایا گیا ایک اور بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا تھا اور یمن میں حوثیوں کی میزائل داغنے کی جگہ کو تباہ کردیا تھا۔

حوثی جنگجو آئے دن ایرانی ساختہ بیلسٹک اور دوسرے میزائل سعودی علاقوں کی جانب داغتے رہتے ہیں۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی سرحدی علاقوں میں اسکولوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کا اظہار تشویش

سعودی عرب پر دوسرے میزائل حملے پر پاکستان نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عوام ساتھ کھڑے رہنے کےعزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برادرملک سعودی عرب پر میزائل حملہ تشویش کا باعث ہے، سعودی عرب پر میزائل حملے کی مذمت کرتے ہیں، سعودی فورسز کے بروقت اقدام کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔سعودی عرب کے خلاف کسی بھی خطرے کے ممکنہ مقاصد کی مذمت کرتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب پر میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ سعودی فورسز کے بروقت اقدام سے جانی نقصان نہیں ہوا۔