.

صنعاء کے شہری ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے : سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد سعید آل جابر نے صنعاء میں حوثیوں کے خلاف عوامی بغاوت کو یمنی عوام کے لیے سود مند اور حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ حوصلہ افزا اور امید افزا پیش رفت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں بہ شمول حزب اللہ کے خاتمے میں مدد ملے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ یمن اور صنعا میں جو کچھ رونما ہورہا ہے ،بالخصوص حوثی ملیشیا کے خلاف عوامی بغاوت ان کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ کیے گیے مختلف سمجھوتوں اور وعدوں کو توڑنے کا نتیجہ ہے کیونکہ ان کا واحد مقصد ایرانی ایجنڈے پر عمل درآمد رہا ہے۔

سعودی سفیر نے کہا:’’ حوثی ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی پیروی کرتے ہیں۔وہ سمجھوتوں پر دستخط اور پھر ان کو توڑنے کے عادی ہیں۔انھوں نے ماضی میں سابق یمنی حکومت سمیت مختلف جماعتوں اور قبائل سے کم وبیش 80 سمجھوتے کے ہیں لیکن ایک ایک کرکے سب کو توڑ دیا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران حوثیوں کی تربیت اور ماہرین کے ذریعے مدد و حمایت کررہا ہے۔حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کی جانب جو بیلسٹک میزائل داغے تھے، وہ ایران کے مہیا کردہ ہی تھے۔

سعید آل جابر نے انکشاف کیا کہ ایران نے یمن میں تیل کی مصنوعات کی فروخت سے حوثیوں کو دو کروڑ ڈالرز مہیا کیے ہیں اور یہ رقم لبنانی حزب اللہ سمیت یمن میں لڑنے والی ملیشیاؤں میں تقسیم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس یمن کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت سے دانش مند لوگ موجود ہیں‘‘۔انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی ہے کہ موجودہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اس جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور یہ یمن کے سیاسی نظام کا حصہ ہے‘‘۔