.

ایرانی بڑوں میں اقتدار کی کشمکش، نژاد پر خیانت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے حکومتی نظام سے وابستہ بڑے بڑوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں تازہ پیش رفت جوڈیشل اتھارٹی کے چیئرمین صادق لاریجانی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو’خیانت عظمیٰ‘ کا مرتکب قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صادق لاریجانی کو غصہ اس لیے ہے کہ احمدی نژاد جوڈیشل کونسل پر تنقید اور اس کے سربراہ پر کرپشن اور لوٹ مار کا الزام عاید کرتےہ یں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صادق لاریجانی نے کہا کہ سابق صدر نے نظام حکومت کے خلاف تلوار لہراتے ہوئے چند منٹوں میں 50 جھوٹ بولے۔ ان کا اشارہ احمدی نژاد کے اس مکتوب کی طرف تھا جو سابق صدر نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو لکھا ہے۔ اس مکتوب میں احمدی نژاد نے صادق لاری جانی اور ان کے خاندان پر عہدے کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئےطاقت کا استعمال کرنے، لوٹ مار، دھوکہ دہی اور دیگر الزامات عاید کیے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ‘ایرنا‘ کے مطابق صادق لاری جانی نے اپنے بیان میں احمدی نژاد کے طرز عمل پر تنقید کی اور کہا کہ سابق صدر ایران کے بیرونی دشمنوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ وہ ایرانی نظام حکومت کی پیٹھ پر خنجر گھونپ رہے ہیں۔ جوڈیشل کونسل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد جیسے لوگ نہیں جانتے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی انقلابی اقدار کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر احمدی نژاد نے جوڈیشل کونسل پر دستور کی توہین کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کونسل کے اقدامات آمرانہ ہیں۔ انہوں نے صادق لاری جانی کی صاحب زادی پر مغرب کے لیے جاسوسی کا بھی الزام عاید کیا۔

احمدی نژاد کے علاوہ ان کے سابق نائب اسفند یار رحیم مشائی نے بھی جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق لاری جانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ظالم اور مںحرف قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں بنیاد پرستوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان کشمکش کافی پرانی ہے مگر اب ایرانی رجیم کے کل پرزے سمجھے جانے والے عناصر بھی اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ الجھ رہے ہیں۔