.

ایران کا شام میں نئی خانہ جنگی کا انتباہ

الرقہ میں امریکیوں کا مقابلہ کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے عالمی امور علی اکبر ولایتی نے شام میں نئی فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی دھمکی دیتے ہوئے شمالی شہر الرقہ میں امریکیوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا, الرقہ میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے مگر ہم امیرکیوں کا تعاقب کریں گے اور اسے البوکمال شہر کی طرح الرقہ سے بھی نکال باہر کریں گے۔

خبر رساں ادارے’تسنیم‘ کے مطابق تہران میں اتوار کو ایک تقریب سے خطاب میں علی اکبرولایتی نے کہا کہ امریکا نے شام میں 12 فوجی کیمپ بنا رکھے ہیں جہاں وہ اپنے فوجیوں کی تعداد کو 10 ہزار تک لے جانا چاہتا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے الرقہ شہر کی صورت حال کو’جنگ صفین‘ کے مشابہ قرار دیا۔ یہ جنگ حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان کے درمیان عراق اور شام کی سرحد پر سنہ 37ھ میں لڑی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ صفین کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ امریکیوں نے شام میں اپنے بارہ مستقل اڈے بنا لیے ہیں۔

علی اکبر ولایتی نے امریکیوں کو الرقہ سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی اور کہا جلد یا بدیر امریکی فوج الرقہ سے نکال باہر کی جائے گی۔ الرقہ میں شکست امریکی فوج کا مقدر بن چکی ہے اور اس کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں۔ جس طرح عراق کی سرحد سے متصل علاقے البوکمال سے امریکیوں کو نکال باہر کیا گیا۔ ایسے ہی الرقہ سے بھی امریکیوں کو شکست فاش سے دوچار کیا جائے گا۔