.

یمن پر 30 سال حکومت کرنے والے عبداللہ صالح صنعاء کی لڑائی میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے ایران نواز حوثی باغیوں نے یمن کے سابق صدر اور اپنے اتحادی علی عبداللہ صالح کے قافلے پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا ہے۔

اس سے قبل پیپلز کانگریس کی قیادت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ علی عبد اللہ صالح بخیر ہیں اور ایک محفوظ مقام سے حوثیوں کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہے ہیں۔

دبئی سے نشریات پیش کرنے والے عربی نیوز چینل “الحدث” نے پیپلز کانگریس رہنماوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ سابق صدر کی ہلاکت کی خبریں صرف افواہ ہیں۔

قبل ازیں یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی شیعہ باغیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے مکان کو دھماکے سے اڑانے کی اطلاعات تھیں۔ اس کے بعد سابق صدر کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

صنعاء کے مکینوں نے سوموار کو شہر کے وسط میں واقع معزول صدر کے مکان کو دھماکے سے اڑائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ایک عہدہ دار نے اس اطلاع کی تردید کرتے ہوئے اس کو حوثیوں کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

صنعاء میں گذشتہ چھے روز سے علی صالح کے وفاداروں اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور حوثیوں کے خلاف لڑائی میں سابق صدر کے وفاداروں کی شکست کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ بدھ سے یمنی دارالحکومت میں حوثیوں اور صالح فورسز کے درمیان جاری لڑائی میں 125 افراد ہلاک اور 238 زخمی ہوگئے ہیں۔