.

یو اے ای کے میزائل دفاعی نظام کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حوثی ملیشیا نے متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری پاور پلانٹ کو حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔یہ دعویٰ اس جنگجو گروپ کے پروپیگنڈا میں ایک بڑی تبدیلی کا بھی عکاس ہے۔

حوثی ملیشیا نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایک پَر والے کروز میزائل نے ابو ظبی سے 600 کلومیٹر جنوب میں واقع جوہری پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔حوثی ملیشیا ایران کے مہیا کردہ ہتھیاروں کو استعما ل کرتی ہے اور اصل حقیقت یہ ہے کہ 2015ء کے بعد سےکروز میزائل آبنائے باب المندب کے نزدیک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہی استعمال کیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات تمام خلیجی ممالک میں واحد ملک ہے جس کے پاس دنیا کے جدید میزائل دفاعی نظام ہیں اور وہ ان کو مسلسل ترقی دے رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یو اے ای نے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے لے کر بیلسٹک میزائلوں تک کے حملوں کی روک تھام کے لیے دفاعی نظام نصب کر رکھے ہیں۔

یو اے ای کی فضائیہ کے سابق کمانڈر ریٹائرڈ میجر جنرل خالد عبداللہ البو عینین نے قبل ازیں ایک میزائل دفاعی کانفرنس میں بتایا تھا کہ امارات مختصر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے خطرے سے اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای نے تین سطحی فضائی دفاعی نظام وضع کررکھا ہے یعنی وہ کم ، درمیانے یا اعلیٰ سطح کے خطرے سے دفاع کی صلاحیت کا حامل ہے۔

ڈرہم یونیورسٹی کے ایک محقق اور واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک ’’خلیج ریاستیں تجزیات‘‘ کے مشیر میتھیو ہیجز کا کہنا ہے کہ پہلی دفاعی سطح کم تر پرواز سے آنے والے کروز میزائلوں اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے مقابلے کے لیے ہے۔

دوسری سطح درمیانے سے اعلیٰ سطح کے میزائل خطرات سے دفاع کے لیے ہے۔اس سے بیلسٹک میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کے حملوں کا دفاع کیا جاتا ہے۔تیسرے نمبر پر اعلیٰ ترین بالائی سطح سے حملے کے دفاع کے لیے ہے اور اس سے بین البر اعظمی میزائلوں کا دفاع کیا جاتا ہے۔

مرکز برائے تزویراتی اور بین الاقوامی مطالعات کے ماہر انتھونی کورڈز مین کے بہ قول یو اے ای کے پاس روسی ساختہ پینٹسیر ایس 1 سسٹم ہے۔یہ نظام تمام موسموں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ طیاروں ،ہیلی کاپٹروں اور بغیر پائیلٹ طیاروں کا سراغ لگانے اور انھیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

درمیانے سے اعلیٰ سطح کے خطرے کے مقابلے کے لیے یو اے ای کے پاس نو پیٹریاٹ سسٹم بیٹریز ہیں۔یہ آبادی کے بڑے مراکز اور اہم تزویراتی تنصیبات کے نزدیک نصب کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ امریکا نے بھی یو اے ای میں دو میزائل دفاعی بیٹریاں نصب کررکھی ہیں۔

یو اے ای نے 2016ء میں دو تھاڈ دفاعی سسٹمز نصب کیے تھے اور اس سے اس کو انتہائی بلند سطح پر فضا میں بین البر اعظمی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے کی صلاحیت حاصل ہوگئی تھی۔میتھیو ہیجز کے بہ قول جدید میزائل دفاعی نظام کے حصول سے یو اے ای دنیا کی جدید اقوام میں شامل ہوچکا ہے۔

میجر جنرل بو عینین کے بہ قول متحدہ عرب امارات کا میزائل دفاعی نظام نہ صرف اپنی ملکی حدود بلکہ بحرین ، قطر اور اومان اور سعودی عرب کے بعض حصوں کے دفاع کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔

یو اے ای پہلا خلیجی ملک ہے جس نے فضائی نگرانی کے لیے جدید ٹی پی وائی 2 میزائل سسٹم نصب کیا تھا۔یہ راڈار دراصل تھاڈ سسٹم کے ساتھ وابستہ ہے۔امریکی فورسز نے یہ راڈار جاپان میں بھی نصب کررکھا ہے اور اس کے ذریعے شمالی کوریا کے میزائل پروگرام سے متعلق معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔

امریکا میں قائم تھنک ٹینک میزائل ڈیفنس ایڈووکیسی الائنس کے مطابق یو اے ای کے پاس خطہ خلیج میں سب سے جدید میزائل دفاعی اثاثے ہیں۔وہ امریکا سے باہر واحد ملک ہے جس نے تھاڈ بیٹری نصب کررکھی ہے اور خلیج تعاون کونسل کا پہلا رکن ملک ہے جس نے پیٹریاٹ پی اے سی 3 نظام نصب کیا تھا۔

وہ پہلا ملک ہے جہاں 2010ء سے میزائل دفاعی نظام کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔یو اے ای کے دارالحکومت ابو ظبی کے البطین ائیربیس پر بین الاقوامی فضائی اور میزائل دفاعی مرکز قائم ہے جہاں میزائل دفاعی نظام ، جنگی منظر ، پیچیدہ جنگی مشقوں اور میزائل حملے سے دفاع کی تربیت دی جاتی ہے۔

تھاڈ میزائل سسٹم
تھاڈ میزائل سسٹم