.

سعودی عرب اور عراق کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے18 سمجھوتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور عراق کے درمیان توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے سے متعلق اٹھارہ سمجھوتے طے پائے ہیں۔

سعودی عرب کے توانائی ، صنعت اور قدرتی وسائل کے وزیر انجنیئر خالد بن عبدالعزیز الفالح اور عراق کے وزیر تیل انجنیئر جبار اللویبی کی موجودگی میں دونوں ملکوں کی کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی اٹھارہ یاد داشتوں پر دست خط کیے ہیں۔

اس سے پہلے سعودی وزیر خالد الفالح نے عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں تیل اور گیس کے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن (سابک) بہت جلد عراق میں اپنا دفتر کھولے گی۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے عراق کے ساتھ موجودہ روابط کو سراہا ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سابک کے دفتر کے عراق میں دوبارہ کھلنے سے پیٹرو لیم اور پیٹرو کیمیکل کی مصنوعات دستیاب ہوں گی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کی صنعتوں اور توانائی کی خدمات مہیا کرنے والی کمپنی ( تقا) بھی عراق میں اپنا دفتر کھول رہی ہے جس سے اس ملک میں سعودی عرب کی موجودگی میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید وسعت ملے گی۔

خالد الفالح کا کہنا تھا کہ ’’عراق کے ساتھ تعاون اور روابط میں اضافہ سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے‘‘۔

سعودی عرب خطے میں اپنے حریف ایران کے اثر ونفوذ کو کم کرنے کے لیے عراق کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات کی بحالی کا سلسلہ 2015ء میں شروع ہوا تھا اور اس ضمن میں سعودی عرب نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 1990ء میں صدام حسین کی فوج کی کویت پر چڑھائی کے بعد عراق کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور انھیں پچیس سال کے بعد دوبارہ بحال کیا ہے۔اب عراق سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کا معاشی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور وہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر سمیت مختلف شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کوشاں ہے جبکہ سعودی عرب کو یہ توقع ہے کہ عراق کے ساتھ مضبوط تعلقات سے خطے میں ایران کی مداخلت کو روک لگانے میں مدد ملے گی۔