.

صنعاء میں ہلاکتوں کا بازار گرم ، اقوام متحدہ کی جانب سے انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں یمنی مندوب خالد الیمانی نے منگل کے روز بتایا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کے دوران یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یہ انکشاف کیا کہ صنعاء میں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان کو ہلاک کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ الیمانی کے مطابق باغیوں نے گزشتہ دو روز کے دوران ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

دوسری جانب عالمی سلامتی کونسل نے یمن میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کی سطح کو کم کریں اور مستقل فائر بندی کے واسطے بنا کسی شرط کے اقوام متحدہ کے زیر قیادت سیاسی عمل کی مکمل پاسداری کریں۔

یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کے اختتام پر کونسل کے حالیہ سربراہ جاپانی سفیر کورو بیسو نے بتایا کہ سلامتی کونسل متفقہ طور پر یمن میں حالیہ خوف ناک صورت حال کے حوالے سے گہری تشویش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانی صورت حال ایک الم ناک قحط کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

سلامتی کونسل کے سربراہ کے مطابق کونسل کے ارکان شدت کے ساتھ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ سلامتی کونسل پہلے ہی یمن اسلحہ ارسال کرنے پر پابندی عائد کر چکی ہے۔

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اعلان کیا ہے کہ صنعاء کی صورت حال بے حد خراب ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورت حال ایسی نہج پر جا سکتی ہے جو یمنیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کرے۔

ڈوجارک نے متنبہ کیا کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کے نتیجے میں پہلے سے ہی پیچیدگیوں کا شکار سیاسی موقف کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں مذاکرات کے ذریعے تصفیے کی ضرورت پر زور دیا اور باور کرایا کہ بات چیت کے ذریعے امن عمل یمنیوں کے سامنے کوئی حل لا سکتا ہے۔