.

پہلی مرتبہ : فرانس کی جوہری آبدوز کے عملے میں 4 خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرسٹوف براوزک کے اعلان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایک لیڈی ڈاکٹر سمیت 4 خواتین افسران کسی فرانسیسی جوہری آبدوز کے عملے میں شامل ہوئی ہیں۔

پیر کے روز دفاعی امور سے متعلق صحافیوں کی انجمن سے ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ ان خواتین کو دو سال کا تربیتی کورس کروایا گیا اور وہ ایک ہفتہ قبل آبدوز کے عملے میں شامل ہوئی ہیں۔ بحریہ کے سربراہ کے مطابق ان خواتین میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے علاوہ جوہری شعبے کی ماہر ، غوطہ خوروں کی سلامتی کے امور کی ماہر اور ایک شفٹ انچارج شامل ہیں۔

فرانس کے پاس اس وقت جوہری توانائی سے کام کرنے والی اور بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھنے والی 4 آبدوزیں ہیں۔ ان میں کم از کم ایک آبدوز مستقل صورت میں سمندر میں رہتی ہے۔

فرانس میں 2014 میں خواتین افسران کے لیے آبدوزوں کے عملے میں شمولیت کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فرانس کی فوج میں خواتین کی تعداد 15%ہے۔ یہ شرح اسرائیل ، ہنگری اور امریکا کے بعد دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ فرانسیسی بحریہ میں خواتین کا تناسب 14.7% ہے جس میں 9% سمندری سیکٹر میں ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں خواتین آبدوزوں پر سوار ہوتی ہیں۔ ان میں امریکا ،برطانیہ ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، سویڈن اور ناروے شامل ہیں۔