.

ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمسلم اور عرب دنیا ، عالمی لیڈروں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس (یروشیلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی صدر نے مسلم اور عالمی لیڈروں کی اس حوالے سے کڑی تنقید کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔عالمی لیڈروں نے ان کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن وسلامتی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی سنگین مضمرات ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اپنی نشری تقریر میں کہا:’’ میں اس کے لیے پُرعزم تھا کہ اب یروشیلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے اور یہ ایک درست اقدام ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا نقطہ آغاز ہے اور یہ تبدیلی امریکا کے مفاد میں ہے‘‘۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکا کی مقبوضہ بیت المقدس کے بارے میں عشروں سے جاری پالیسی میں تبدیلی بلکہ انحراف کا مظہر ہے۔ امریکا کے 1995ء میں منظور کردہ ایک قانون میں یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا جائے گا لیکن ماضی میں امریکی صدور اس قانون پر عمل درآمد کو ہر چھے ماہ کے بعد مؤخر کرتے چلے آرہے تھے مگر اب ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارت خانہ منتقل کرنے کے حکم پر دست خط کر دیے ہیں اور اس ضمن میں محکمہ خارجہ کو ضروری انتظامات کی بھی ہدایت کردی ہے۔

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور فلسطینی صدر محمود عباس سمیت عرب اور مسلم لیڈر پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر امریکا نے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو اس سے مشرقِ وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازع کے حل اور قیام امن کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع شہر قرار دیتے ہیں۔البتہ بعض ممالک کے قونصل خانے بیت المقدس میں قائم ہیں۔ان میں امریکا کا قونصل خانہ بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی جبکہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔اب انھوں نے اپنے اس انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا ہے اور اسرائیل کی حمایت کرکے پوری دنیا کی مخالفت مول لی ہے۔

یادرہے اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کے مشرقی حصے کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصفیہ طلب مسائل میں مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت پر تنازع سب سے نمایاں ہے۔اقوام متحدہ اور یورپی ممالک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے ۔امریکی صدر کو اب اپنے اس فیصلے پر خود ان کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہوسکتا ہے۔