.

’میرے والد کو مسلح حالت میں ان کے گھر پر قتل کیا گیا‘

حوثیوں کے خلاف خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے: احمد صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے اور یمن کی ری پبلیکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد علی صالح نے کہا ہے کہ ان کے والد کو صنعاء میں ان کی رہائش گاہ پر 'شہید' کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے جب ان کے والد کو 'شہید' کیا گیا تو وہ اس وقت مسلح حالت میں تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق احمد علی صالح کے ایک معاون نے ان کا ایک بیان میڈیا تک پہنچایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملک وقوم کے بد ترین دشمن ہیں۔ حوثی دہشت گردوں کو شکست دینے تک وہ لڑائی جاری رکھیں گے اور خون کے آخری قطرے تک جنگ جاری رکھیں گے۔

احمد صالح نے کہا کہ ان کے والد کو گھر سے باہر نہیں بلکہ گھر پر اس وقت قتل کیا جب وہ مسلح حالت میں تھے۔

احمد صالح کا کہنا تھا کہ ایران کے وفادار حوثیوں کو ان کے والد کے خون کا حساب دینا ہو گا۔ یہ [حوثی] وطن اور انسانیت کے دشمن ہیں جو یمن قوم کی تذلیل کے ساتھ ملک وقوم کے تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ایران نواز حوثیوں نے صنعاء میں لڑائی کے دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔