.

شیخ الازھر کا امریکی نائب صدر سے ملاقات سے انکار

القدس کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر کے سربراہ احمد الطیب نے 20 دسمبر کو مشرق وسطیٰ کے دورے پر آنے والے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القدس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ واپس لے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے قاہرہ میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف سے شیخ الازھر کو خطے کے دورے پر آنے والے امریکی نائب صدر سے ملاقات کی دعوت دی تھی۔ شیخ الازھر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ بہ طور احتجاج امریکی نائب صدر سے نہیں ملیں گے۔

شیخ الازھر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کے بارے میں ظالمانہ فیصلے کے بعد وہ امریکیوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنےوالوں اور تاریخی جعل سازیوں میں ملوث لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے بات چیت کرنا وہ مناسب نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ جامعہ الازھر فلسطینی مقدسات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور القدس کے دفاع کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھوں کو غیرمستحق کو مالک بناتے اور مستحق کو اس کے حق سے محروم کرتے ہیں۔

شیخ الازھر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القدس کے بارے میں کیے گے متنازع فیصلے کے بعد پوری اسلامی دنیا میں امریکیوں سے نفرت پائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے مسلمانوں کے دل جیتنے کے بجائے مسلمانوں کےدلوں میں نفرت پیدا کی۔ جمہوری اور انسانی اقدار، انصاف اور امن کے حوالے سے امریکی پہچان ختم ہوچکی ہے۔