.

ٹرمپ کے القدس بارے فیصلے کے خلاف کوالالمپور میں ملین مارچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کے صدر مقام کوالالمپور میں کل جمعہ کے روز نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد لاکھوں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کوالالمپور میں ہونے والے اس عظیم الشان مظاہرے کے شرکاء نے امریکی سفارت خانہ کی طرف مارچ کیا اور سفارت خانے کے باہر دھرنا بھی دیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔

اس موقع پر حکمراں جماعت ’اومنو‘ کے سربراہ خیری جمال نے امریکی سفارت خانے میں ایک احتجاجی یاداست بھی جمع کرائی۔ اس یاداشت میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا القدس کے بارے میں فیصلہ غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔

یاداشت میں کہا گیا ہے کہ جناب صدر آپ کا القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان غیر قانونی ہے۔ القدس مقبوضہ علاقہ ہے اور اسے صہیونی ریاست کے حوالے کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہودی لابی کو خوش کرنے کے لیے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا اور تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنےکی ہدایت کی ہے۔

گذشتہ روز حکمراں جماعت کے اجلاس سے خطاب میں انڈونیشیا کے وزیراعظم نجیب عبدالرزاق نے امریکی صدر کے القدس کے بارے میں فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کو مسترد کردیا ہے۔

ملائیشیا سمیت کل جمعہ کے روز پورے عالم اسلام میں امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف جلسے جلوس اور مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے امریکی صدر کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی شدید مذمت کی اور اسے ناقابل قبول قرار دیا۔