.

امریکی صدر کے اعلان کے بعد عرب دنیا کے پاس محدود آپشن رہ گئے: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکی صد ر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنےکے فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد عرب دنیا کے پاس بہت محدود آپشن رہ گئے ہیں۔

انھوں نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں امریکی صدر کے فیصلے کو خطے میں عرب بہار سے جنم لینے والی افراتفری اور طوائف الملوکی کا فطری نتیجہ قرار دیا ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’ آج ہماری صورت حال بہت ہی ناخوش گوار ہے اور اس کا علاج خود ہی کو چابک رسید کرنا نہیں ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس مقدس شہر میں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کے اس فیصلے کے خلاف عالمی سطح پر سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔

امریکا کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور سعودی عرب سمیت عرب لیگ نے امریکی صدر سے یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔