.

نیویارک: ٹائمزاسکوائر کے نزدیک بنگلہ دیشی کا بم دھماکا ، چار افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر نیویارک کے مصروف علاقے مین ہیٹن میں سوموار کی صبح ایک پائپ بم پھٹنے سے دھماکا ہوا ہے جس سے چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

نیویارک کے محکمہ پولیس نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ ساڑھے سات بجے کے قریب دھماکا مین ہیٹن کی بیالیسویں شاہراہ اور آٹھویں ایونیو پر ٹائمز اسکوائر کے نزدیک ہوا ہے۔ اس کے بعد اس علاقے میں بعض زیر زمینوں ٹرین لائنوں کو خالی کرا لیا گیا تھا اور ٹرینوں کا رُخ دوسرے اسٹیشنوں کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

ڈبلیو اے بی سی نیوز چینل نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتا یا ہے کہ یہ ایک پائپ بم تھا اور یہ پورٹ اتھارٹی بس ٹرمینل کے نزدیک ایک زیر زمین سب وے پر اس مشتبہ شخص کے ہاتھ میں پھٹ گیا جس اس شخص کے علاوہ تین مسافر زخمی ہوگئے ہیں۔

پورٹ اتھارٹی کے اہلکاروں نے اس مشتبہ شخص کو فوری طور پر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا اور اس کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان چاروں افراد کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔حکام نے اس مشتبہ حملہ آور کا نام عقائد اللہ بتایا ہے۔وہ بنگلہ دیشی ہے اور اس کی عمر ستائیس سال ہے۔

ایک اور ذریعے نے بتایا ہے کہ پولیس کو اس مشتبہ ملزم سے ایک دھماکا خیز ڈیوائس ملی تھی۔یہ ڈیوائس ایک تار کے ذریعے اس کے جسم سے بندھی ہوئی تھی۔اہلکاروں نے بم کو اس کے جسم سے الگ کرنے کے بعد ناکارہ بنا دیا جس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔

نیویارک کے محکمہ پولیس کے سابق کمشنر بریٹن نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشتبہ ملزم کی عمر بیس اور تیس سال کے درمیان ہے اور وہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھتا ہے ۔اس نے مبینہ طور پر داعش کے نام پر اس ڈیوائس سے دھماکے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے یہ یقینی طور پر دہشت گردی کا حملہ تھا۔ان کا یہ کہنا ہے کہ مشتبہ ملزم گذشتہ سات سال سے امریکا میں مقیم ہے۔

تاہم داعش یا کسی اور جنگجو گروپ نے اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔امریکا کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ( ایف بی آئی)،پولیس اور دوسرے متعلقہ ادارے اس بم دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں۔