.

کویت :کابینہ کی حلف برداری ، تیل ، خزانے اور محکمہ دفاع کے نئے وزراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی سولہ رکنی نئی کابینہ نے سوموار کے روز حلف اٹھا لیا ہے ۔امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے کابینہ میں شامل وزراء سے ان کے عہدوں کا حلف لیا ۔

امیر کویت نے قبل ازیں ایک حکم نامے کے ذریعے نئی کابینہ میں شامل وزراء کی منظوری دی تھی ۔انھوں نے شیخ جابر المبارک الصباح کو وزیر اعظم برقرار رکھا ہے ۔ وزارت دفاع کا منصب اپنے بڑے بیٹے شیخ ناصر الصباح الاحمد الصباح کو سونپا ہے ۔وہ اول نائب وزیراعظم بھی ہوں گے۔

69 سالہ شیخ ناصر کو پہلی مرتبہ کسی وزارت کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ اس سے پہلے وہ 2006ء سے شاہی دیوان کے سربراہ چلے آ رہے تھے۔انھیں کویت کے ایک بڑے تعمیراتی منصوبے ’’ سلک سٹی ‘‘ کا منصوبہ ساز قرار دیا جاتا ہے۔اس منصوبے پر ایک سو ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہو گی۔

نئی کابینہ میں نو نئے چہرے شامل ہیں اور تیل اور خزانے کی وزارتوں کے قلم دان بھی نئے وزراء کو سونپے گئے ہیں۔تیل کے شعبے سے وابستہ ایک سابق اعلیٰ عہدہ دار بخیت الرشیدی کو سبکدوش کابینہ میں شامل اعصام المرزوق کی جگہ نیا وزیر تیل مقرر کیا گیا ہے۔

کویت کی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ نیفال الحجرف کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ ان کے پیش رو انس الصالح کو وزیر مملکت برائے کابینہ امور بنا دیا گیا ہے۔

کویت کی سابقہ کابینہ 30 اکتوبر کو وزیر مملکت برائے کابینہ امور شیخ محمد عبداللہ المبارک الصباح کے خلاف پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے بعد مستعفی ہوگئی تھی۔ تب پارلیمان میں دو ارکان ریاض العدسانی اور عبدالقدیر الکندری نے شیخ محمد مبارک سے مالی بدعنوانیوں سمیت مختلف امور کے بارے میں سوالات کیے تھے۔

پارلیمان کے اجلاس کے بعد دس ارکان نے وزیر کے دیے گئے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے ان سے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن شیخ عبداللہ مبارک نے اعتماد کا ووٹ لینے بجائے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا اور پھر پوری کابینہ ہی مستعفی ہوگئی تھی۔