.

شامی حکومت کے وفد کی جنیوا امن مذاکرات میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کا وفد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے اتوار کے روز جنیوا پہنچ گیا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا وفد روس کے دباؤ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا کے انتباہ کے بعد مذاکرات کے لیے آیا ہے۔عالمی ایلچی نے خبردار کیا تھا کہ جو کوئی فریق بھی جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کے لیے نہیں آئے گا، وہ اس کے نتائج کا خود ذمے دار ہوگا۔

جنیوا میں امن مذاکرات کے آٹھویں دور کا دو سرا مرحلہ گذشتہ منگل کو شروع ہوا تھا اور شامی حزب اختلاف کے وفد نے اسٹافن ڈی میستورا سے بات چیت کی ہے۔تین دن کے وقفے کے بعد سوموار کو مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔مسٹر میستورا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور دسمبر کے وسط تک جاری رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے وفد کے ارکان نے کہا ہے کہ یورپ اور امریکا کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کو بھی مذاکرات میں شریک کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جنیوا میں شام امن مذاکرات کا آٹھواں دور نومبر کے آخر میں شروع ہوا تھا اور ڈی میستورا نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس کے دوران میں شامی رجیم کے وفد اور حزب اختلاف کے درمیان آئینی اور انتخابی اصلاحات سے متعلق براہ راست بھی بات چیت ہوگی ۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کی ثالثی اور میزبانی میں جنیوا میں شام امن مذاکرات کے گذشتہ سات ادوار میں بحران کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی اور جنیوا میں مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان روس ، ایران اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کاایک متوازی عمل شروع کیا گیا تھا۔

آستانہ میں مئی میں روس ،ترکی اور ایران کے درمیان شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کے لیے ایک سمجھوتا طے پا یاتھا جبکہ شام کی مسلح حزب اختلاف کے وفد نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھااور صدر بشارالاسد کی حکومت سے باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔