.

یو اے ای اور سعودی عرب کا سرحدپار سودوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے مرکزی بنک کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء پر کام کررہا ہے۔ یہ کرنسی دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پار رقوم کی منتقلی میں قابل قبول ہوگی۔

یو اے ای کے مرکزی بنک کے گورنر مبارک راشد المنصوری نے بدھ کے روز ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ڈیجیٹل کرنسی بلاک چین اور رقوم کی منتقلی کے مشترکہ بہی کھاتے پر مبنی ہوگی۔اس بہی کھاتے کو ایک مرکزی اتھارٹی کے بجائے کمپیوٹرز کے ایک نیٹ ورک پر تیار کیا جائے گا اور اس پر برقرار رکھا جائے گا۔

ان دونوں مرکزی بنکوں نے ماضی میں بِٹ سکّے سمیت ڈیجیٹل کرنسیوں پر اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا اور یواے ای کے مرکزی بنک نے کہا تھا کہ وہ بِٹ سکّے کو سرکاری کرنسی کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔ جولائی میں سعودی عرب کے مرکزی بنک نے بِٹ سکّے میں لین دین پر خبردار کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ یہ بنک کے ریگولیٹری دائرہ کار سے باہر ہے۔

تاہم راشد منصوری نے اپنی تقریر میں کہا ہےکہ دونوں مرکزی بنک اب بلاک چین ٹیکنالوجی کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کو صرف بنک لین دین میں استعمال کریں گے اور عام صارفین اس کو استعمال نہیں کرسکیں گے۔ان کے بہ قول اس سے بنکوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کے عمل میں تیزی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم مرکزی بنکوں اور دوسرے بنکوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کے لیے جو کچھ کررہے ہیں،یہ دراصل اسی کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل ہے‘‘۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایک عشرہ قبل خلیج تعاون کونسل کے چھے رکن ممالک میں صرف ایک ہی کرنسی رائج کرنے کی تجویز پر غور کیا تھا لیکن بعد میں یو اے ای 2009ء میں مشترکہ کرنسی کی تجویز سے دستبردار ہوگیا تھا۔

تاہم اس سال کے دوران میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور گذشتہ ہفتے یو اے ای نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر اقتصادی ، سیاسی اور دفاعی امور سے متعلق ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔