.

30 ارب ریال کے سرمائے سے سعودی عرب میں برآمدی بینک قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے توانائی وصنعت و معدنیات انجینئر خالد الفالح نے بتایا ہے کہ مملکت نے 30ارب ریال کے سرمایہ سے برآمدی بینک قائم کر دیا۔ پہلی قسط 5ارب ریال مختص کر دی گئی۔ اس سے برآمدات کو فروغ دیا جائے گا۔

انجینئر الفالح نے بتایا کہ سعودی فنڈ برائے فروغ صنعت کا سرمایہ شروع میں 500 ملین ریال تھا جسے اس سال سے 65 ارب ریال کر دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف یہ کہ لاجسٹک خدمات اور صنعتی فروغ پروگرام کا پرچار کر رہا ہے بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سعودی آرامکو کے زیراہتمام "اکتفاء" فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اکتفاء فارمولے کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ اچھوتا عملی پروگرام ہے اس کے تحت سعودی عرب میں لاجسٹک اور صنعتی فروغ کی ترغیب پر بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔ آرامکو آئندہ 10 برس کے دوران ایک ٹریلین ریال سے زیادہ مختلف منصوبوں اور آپریشنل سودوں پر خرچ کرے گی۔

آرامکو 2021ء تک ملکی خدمات اور اشیاءکی 70 فیصد ضرورتیں پوری کرنے لگے گی۔ یہ پروگرام آرامکو مصنوعات او رخدمات کا 30 فیصد حصہ برآمد کرے گا۔ فورم میں 30 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی قابل تعریف ہے۔ اندرون مملکت سے 400 کمپنیاں فورم میں حصہ لے رہی ہیں۔

فورم کی بدولت 60 ارب ریال تک خارجی سرمایہ کاری مملکت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے 40ہزار اسامیاں پیدا ہوں گی۔ فورم کے اجلاس میں گورنر مشرقی ریجن شہزادہ سعود بن نایف اور نائب گورنر احمد بن فہد بن سلمان بھی موجود تھے۔