.

حوثیوں کا سعودی دارالحکومت پر داغا گیا میزائل ایرانی ساختہ تھا: نِکّی ہیلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر نِکّی ہیلی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا کردار بد تر ہوتا جارہا ہے اور وہ تنازعے کے شعلے بھڑکا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کے پاس اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ حوثی ملیشیا کا سعودی دارالحکومت الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہدف بنانے کے لیے داغا گیا میزائل ایرانی ساختہ تھا۔

نِکّی ہیلی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ یہ میزائل ایران میں تیار کردہ تھا اور پھر اس کو یمن میں حوثی ملیشیا کو بھیجا گیا تھا۔وہاں سے انھوں نے الریاض میں ایک شہری ہوائی اڈے کی جانب فائر کیا تھا۔اس سے سعودی عرب میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوسکتے تھے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد بنانا چاہتا ہے۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کی جانب سے یمنی حوثیوں کو میزائلوں اور ہتھیاروں سے مدد مہیا کرنے کے شواہد موجود ہیں۔

نِکّی ہیلی نے کہا کہ حوثیوں سے ضبط کیے گئے ہتھیاروں کی امریکا کے ایک اڈے پر نمائش کی گئی ہے اور یہ ہتھیار ایران کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزیوں کے مظہر ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ایرانی میزائلوں سے صرف سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات ہی کو خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ ان سے ہر کسی کو خطرہ لاحق ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایران پر ہتھیاروں یا میزائلوں کی برآمد پر پابندی عاید ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے اقدامات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور اس نے دہشت گردی کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع ایران کے خلاف اس کی معاندانہ کارروائیوں کے ردعمل میں نئے اقدامات کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا اور سعودی عرب ایک عرصے سے ایران پر یمن کے حوثی باغیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔حوثی ملیشیا نے 4 نومبر الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب ایک میزائل فائر کیا تھا لیکن اس کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔اس کا ملبہ ہوائی اڈے کے نزدیک گرا تھا۔

سلامتی کونسل میں پیش کردہ ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام نے الریاض کی جانب داغے گئے اس میزائل کے ملبے کا جائزہ لیا ہے ۔اس سے اس کی ’’ مشترکہ اساس‘‘ کی تو نشان دہی ہوئی ہے لیکن وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ آیا یہ میزائل ایران کے ایک سپلائیر کا مہیا کردہ اور ایرانی ساختہ ہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کو پیش کردہ اس رپورٹ کے مطابق حکام ابھی تک فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک اور ٹیم نے گذشتہ ماہ الریاض میں یمن سے فائر کیے گئے اس میزائل کے ٹکڑوں کا معائنہ کیا تھا اور انھیں اس میزئل کا ایران کے ایک مینوفیکچرر شاہد باقری انڈسٹریل گروپ سے ممکنہ تعلق کا سراغ ملا تھا۔ اس گروپ کا لوگو میزائل کے ٹکڑوں پر کندہ پایا گیا تھا۔اقوام متحدہ نے اس گروپ کا نام اس کی پا بندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی کمپنیوں اور اداروں میں شامل کررکھا ہے۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی مداخلت اور حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جدید اور خطرناک میزائل صلاحیتوں سے حمایت کی وجہ سے پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔