.

سعودی عرب : غیرملکی سرمایہ کاروں اور ماہرین کے لیے مجوزہ گرین کارڈز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حکام مستقبل قریب میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ماہرین کو جاری کیے جانے والےمجوزہ’’ گرین کارڈز ‘‘ کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر اس کو منظور کر لیا جاتا ہے تو اس کا بہت جلد اعلان کردیا جائے گا۔

یہ بات اقتصادی امور اور ترقی کونسل کے مقامی کانٹینٹ اور پرائیویٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ یونٹ کے سربراہ فہد السکیت نے ایک بیان میں بتائی ہے۔سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی مالیاتی کمیٹی کے وائس چیئرمین فہد بن جمعہ نے بھی غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ان کارڈوں کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سعودی گرین کارڈ کی اہلیت کا معیار تجارت اور سرمایہ کاری کی وزارت اور دوسرے ادارے مل کر طے کریں گے۔

فہد السکیت کا کہنا ہے کہ گرین کارڈ کی اہلیت کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار سائنسی مہارتوں کے حامل ہوں یا پیشہ ورانہ قابلیت رکھتے ہوں یا پھر وہ کسی کمپنی کے مالکان ہوں اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ یہ گرین کارڈ محدود تعداد میں دستیاب ہوں گے کیونکہ ایک تو درخواست گزاروں کو مذکورہ معیار پر پورا اترنا ہوگا اور دوسرا مملکت میں کاروبار کے خواہاں غیر ملکی سعودی انویسٹمنٹ لائسنس بھی حاصل کرسکیں گے۔

فہد السکیت نے مزید بتایا ہے کہ ویژن 2030ء کے اہداف کے حصول کے لیے اس وقت نج کاری کا ایک بڑا منصوبہ زیر غور ہے کیونکہ اس ویژن میں زیادہ تر نجی شعبے اور اس کی ترقی پر انحصار کیا گیا ہے۔انھوں نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی ہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے ملک کے نوجوان مرد وخواتین کے لیے روزگار کے اور زیادہ مواقع دستیاب ہوں گے۔اس سے سعودی معیشت کی ترقی میں مدد ملے گی اور علوم کی منتقلی کا عمل تیز ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ آیندہ چار سال کے دوران میں نجی شعبے کو ترقی دینے کے لیے مختلف مدوں میں 200 ارب سعودی ریال دینے کا ا علان کیا گیا ہے۔ہم نجی شعبے کو ترغیب دینے کے لیے ایک مربوط منصوبہ شروع کرنے پر بھی غور کررہے ہیں اور اس ضمن میں سترہ پروگرام آغاز کیے جائیں گے۔ حال ہی میں نجی شعبے کی ترقی کے لیے اعلان کردہ 72 ارب ریال کی رقم بھی اسی کا حصہ ہے اور ریاست کی جانب سے نجی شعبے میں یہ ایک بہت بڑی سرمایہ کاری ہے‘‘۔

ان کے بہ قول’’ سعودی عرب میں جن شعبوں پر پہلے منصوبے کے طور پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ، ان میں کارکردگی اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہے۔نجی شعبے میں کارکردگی اور ٹیکنالوجی کی سطح بلند کرنے کے لیے ابتدائی طور پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شرکت بڑھائی جارہی ہے اور انھیں درپیش مسائل اور رکاوٹوں کو دور کیا جارہا ہے‘‘۔