.

لیبیا: مصر اتہ شہر کے میئر اغوا کے بعد قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ کی بلدیہ کے میئر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کے بعد قتل کر دیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے محمد اشتوعی کو ایک غیر ملکی دورے سے واپسی پر اتوار کی شب اغوا کر لیا تھا۔ اس وقت وہ ہوائی اڈے سے باہر نکل رہے تھے۔ان کی لاش ایک سڑک کے کنارے سے ملی تھی۔ مصراتہ کے ایک اسپتال کے حکام نے بتایا ہے کہ میئر کی لاش پر گولیوں کے نشان تھے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی بھی ان کے ساتھ کار پر سوار تھے اور وہ حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔محمد اشتو ی مصراتہ کی شہری کونسل کے دوسرے ارکان کے ساتھ ترکی کے سرکاری دورے پر گئے تھے۔وہاں سے واپسی پر انھیں گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سالم نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر محمد اشتوےی کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ مصراتہ کی آبادی قریباً چار لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس کو لیبیا کے پُرامن اور محفوظ شہروں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔ مقتول اشتوری شہر کی بلدیہ کے منتخب میئر تھے۔انھیں اور بلدیہ کے دوسرے ارکان کو 2014ء میں چار سال کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ مصراتہ سے تعلق رکھنے والی ملیشیاؤں نے گذشتہ سال سرت شہر سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔