.

لیبی فوج کے سربراہ جنرل حفتر کا سیاسی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے سیاسی معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ نام نہاد سیاسی اتحاد کی طرف سے جاری کردہ کسی فیصلے کو تسلیم کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

لیبیا کی ٹی وی پر نشر ایک بیان میں جنرل حفتر نے کہا کہ ’فوج کا ادارہ ایسے کسی فریق کے احکامات تسلیم نہیں کرے گا جسے عوام کی جانب سے آئینی حیثیت حاصل نہیں ہوگی‘۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم صرف اور صرف آزاد لیبی عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ عوام ہی اختیارات کا مآخذ اور فیـصلہ سازی کے مالک ہیں‘۔

جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے خطاب میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ اے لیبیا کی عظیم قوم آپ 17 دسمبر سے ملک میں تاریخی تبدیلی دیکھیں گے۔ ہمیں احساس ہے کہ آپ کا صبر ک پیمانہ لبریز ہوچکا۔ ملک میں استحکام کے جس مرحلے کا بے تابی سے انتظار تھا آگیا ہے۔ عوام کی امیدیں اور امنگیں پوری ہونے لگی ہیں۔ دوسرے اداروں پر اعتماد اور ان کے وعدوں سے باندھی گئی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوئی اور قومی اداروں پر عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ لیبیا کے مختلف حلقوں میں ہونے والی مذاکرات اور ان میں طے پائے سیاسی معاہدے صرف کاغذ کے اوراق پر باقی رہ گئے ہیں۔ قومی وفاق حکومت اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔

جنرل حفتر نے کہا کہ مسلح افواج گذشتہ ایک سال سے عالمی برادری اور لیبیا کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کے ساتھ بھرپور رابطوں کی کوشش میں سرگرم رہی تاکہ ملک میں سیاسی عمل آگےبڑھایا جاسکے۔ ہم نے ملک میں جلد از جلد انتخابات کے لیے بھی تیاری کی مگر اقوام متحدہ کی طرف سے سیاسی معاہدے کے لیےدباؤ نے ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا۔