.

بھارت : بڑی جماعتوں کو مسلم ووٹروں کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ریاست گجرات کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کو مسلمان ووٹروں کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا ہے اور ان کے امیدوار مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولی فرق سے ہار گئے ہیں۔

ریاستی اسمبلی کے انتخابی نتائج کا 18 دسمبر کو اعلان کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کارکردگی کوئی زیادہ متاثر کن نہیں بلکہ خراب رہی ہے البتہ وہ مسلسل چھٹی مرتبہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس نے 92 نشستیں حاصل کی ہیں ۔اس طرح اس نے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستوں سے سات زیادہ جیتی ہیں۔

کانگریس کے پاس اس مرتبہ ریاستی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا اچھا موقع تھا لیکن اس نے بھی بی جے پی کے ڈسے مسلم ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔اس نے 80 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ 1985ء کے بعد 182 ارکان پر مشمل گجرات اسمبلی میں اس کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔

گجرات میں مسلمانوں کی آبادی دس فی صد ہے ۔ بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا جبکہ کانگریس نے صرف چھے مسلم امیدواروں کو انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ دیے تھے اور ان میں سے تین کامیاب رہے ہیں ۔ 1985ء میں منتخب مسلم ارکان کی تعداد بارہ تھی۔

پندرہ روزہ جریدے گجرات سیاست کے مدیر عبدالحفیظ لاکھانی نے ریاست میں حالیہ انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر کوئی گفتگو نہیں کی گئی تھی اور اقلیتی تنظیموں پر اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے پر پابندی لگا دی گئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں نے انتخابات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کا ووٹ ڈالنے کا تناسب صرف چار فی صد رہا ہے۔

عبدالحفیظ لاکھانی نے مسلم ووٹروں کی انتخابی عمل سے اس لاتعلقی پر انھیں مبارک باد بھی پیش کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے خود کو کسی خاص جماعت کا ووٹر ظاہر نہیں کیا ہے،اس طرح انھوں نے اپنی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نےا س مرتبہ ایک بڑی نظریاتی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور اس نے دائیں بازو کے نظریے کی ایک نرم شکل کا کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس کے نئے صدر راہول گاندھی نے گجرات میں انتخابی مہم کے دوران میں 27 ہندو مندروں کا دورہ کیا تھا اور 30 عوامی جلسوں سے خطاب کیا تھا لیکن انھوں نے ان میں سے کسی ایک جگہ بھی مسلمانوں کو درپیش مسائل پر کوئی بات نہیں کی ۔اس ریاست میں خاص طور پر مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ الگ تھلگ اپنی بستیوں میں رہ رہے ہیں اور اکثریتی آبادی ہندو انھیں اپنے ہاں ملازمتیں یا مکانات کی پیش کش کرنے کو تیار نہیں ۔

دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی خود بی جے پی کی انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں ۔انھوں نے اپنی ہر تقریر میں مسلم مخالف جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی اور وہ اقلیتوں کی زیادہ آبادی والے علاقوں میں بھی ہندوؤں کے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی نے ان حلقوں میں بھی 40 فی صد تک سبقت حاصل کی ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 فی صد ہے۔

ان دونوں بڑی جماعتوں کے برعکس 35 سالہ دلت لیڈر جگنیش میوانی نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا ۔وہ انتخابی مہم کے دوران میں گجرات میں مسلمانوں سے ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور انھوں نے اپنے حریف بی جے پی کے امیدوار کو بیس ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہرایا ہے۔

گجرات اسمبلی کے بیس مسلم اکثریتی حلقوں میں سے تیرہ پر بی جے پی اور سات پر کانگریس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔مجموعی طور پر مسلم ووٹر 36 نشستوں کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے ہیں اور ان حلقوں میں جیتنے اور ہارنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کا فرق صرف تین ہزار تک رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 28 حلقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ مسلم ووٹروں نے کانگریس اور بی جے پی میں سے کسی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا اور ’’ان میں سے کوئی نہیں‘‘ کا بٹن دبایا ہے۔ان مسلم ووٹروں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔