.

شام کی تعمیرِ نو میں ہمارا کردار "مخیّر فریق" کا نہیں ہو گا : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے نائب وزیراعظم دمتری روگوزین نے زور دیا ہے کہ شام میں تعمیرِ نو کی کارروائی تیز کیے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں شامی حکومت روس کے ساتھ خصوصی تعاون کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

روگوزین ایک سرکاری وفد کے سربراہ کے طور پر شام کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیر کے روز باور کرایا کہ روس تعمیرِ نو کے منصوبوں میں مخّیر فریق کی حیثیت سے شریک نہیں ہو گا اور وہ یقینا اپنے مفادات کا خیال کرے گا۔ روگوزین کے مطابق روس کے نزدیک شام ایک دولت مند ملک ہے جس کی اراضی زرخیز ہے ، اس کے پاس زیر زمین ثروت بھی ہے اور اس کا محل وقوقع تزویراتی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روسی کمپنیوں کو معنوی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ شام میں اقتصادی منصوبوں کی پیش رفت میں شریک ہوں بالخصوص جب کہ وہاں روسی افواج کی عسکری موجودگی کا سلسلہ جاری ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی اِسپٹنک کے مطابق نائب وزیر اعظم دمتری روگوزین نے شام میں حمیمیم کے عسکری اڈے کا دورہ کیا اور وہاں شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کی۔

اس سے قبل رواں ماہ دسمبر میں روسی صدر ولادیمر پوتین اپنے غیر اعلانیہ دورے پر شام پہنچے تھے جہاں انہوں نے لاذقیہ میں حمیمیم کے فوجی اڈے کا دورہ کیا تھا اور بشار الاسد سے ملاقات کی۔

روسی خبر رساں ایجنسی ٹاس نے پوتین کے حوالے سے بتایا تھا کہ روس شام میں حمیمیم کا فضائی اڈہ اور طرطوس کا بحری اڈہ برقرار رکھے گا۔ اس کے علاوہ روسی صدر نے اپنی افواج کو حمیمیم اور طرطوس کے مراکز میں واپس آنے کے احکامات بھی جاری کیے۔