.

سعودی عرب کے قریباً ایک ٹریلین ریال کے سالانہ تاریخی میزانیے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مالی سال 2018ء کے لیے قریباً ایک ٹریلین (978 ارب سعودی ریال ) مالیت کےمیزانیے کا اعلان کردیا ہے۔ مالی حجم کے اعتبار سے سعودی عرب کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا بجٹ ہے۔

موجودہ مالی سال کے دوران میں مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) کے مقابلے میں مالی خسارہ 8.9 فی صد رہا ہے۔سال 2016ء میں یہ مالی خسارہ 12.8 فی صد تھا۔2017ء کے دوران میں کل 926 ارب سعودی ریال اخراجات ہوئے ہیں جبکہ آمدن 696 سعودی ریال رہی ہے۔اس طرح بجٹ میں خسار ہ 230 سعودی ریال رہا ہے۔

سعودی عرب کے مالی سال 2018ء کے اعلان کردہ سالانہ میزانیے کے نمایاں نکات حسب ذیل ہیں:

• سال 2018ء کے لیے منظور کردہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 978 ارب سعودی ریال اور آمدن کا تخمینہ 783 ارب ریال لگایا گیا ہے۔اس طرح آیندہ سال بجٹ خسارہ 195 ارب ریال ہوگا۔
• مالی سال 2019ء میں سعودی عرب کے متوقع بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 1006 ارب سعودی ریال اور آمدن کا تخمینہ 843 ارب ریال لگایا گیا ہے۔ یوں بجٹ خسارہ 163 ارب ریال ہوگا۔
• 2022ء تک بتدریج سالانہ بجٹ خسارہ کم ہوتا چلا جائے گا اور 2023ء میں متوازن بجٹ پیش کیا جائے گا۔اس سال اخراجات 1134 سعودی ریال ہوں گے اور آمدن 1138 ریال ہوگی۔اس طرح چار ارب ریال فاضل حاصل ہوں گے۔
• 2018ء کے لیے منظور کردہ بجٹ میں اخراجات کا حجم ملکی تاریخ کے سابقہ تمام میزانیوں میں سب سے زیادہ رہے گا۔اخراجات کے لیے رقوم ان ذرائع سے حاصل ہوں گی: تیل کی آمدن سے 50 فی صد ، غیر تیل ذرائع سے 30 فی صد، قرضوں سے 12 فی صد اور سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم کا میزانیے میں حصہ 8 فی صد ہوگا۔
• 2018ء میں اشیاء اور خدمات کی مد میں محصولات سے 85 ارب ریال حاصل ہوں گے۔
• آیندہ سال کے دوران میں شہریوں کے اکاؤنٹ کے لیے ڈھائی ارب ریال ماہانہ مختص کیے جائیں گے۔
• آیندہ سال کے دوران میں توانائی اور پانی کی قیمتوں اور تارکین وطن پر عاید ٹیکس
کی مالیت میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
• 2018ء میں ہونے والے عمومی اخراجات میں میزانیے کے اخراجات ، پبلک انویسٹمنٹ کے اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کی رقوم بھی شامل ہوں گی۔ ان دونوں آخر الذکر اخراجات کی مالیت 133 ارب ریال تک پہنچ جائے گی۔
• 2017ء میں جی ڈی پی میں 0.5 فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں 2018ء میں 2.7 فی صد اضافہ ہوگا۔
• آیندہ سال کے دوران میں نجی شعبے کے لیے ترغیبی اور مراعاتی پیکجیز کا کل حجم 200 ارب سعودی ریال ہوگا۔