.

امریکا اور 3 مغربی ممالک کا ایرانی میزائلوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس کے دوران امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام سے نمٹنے کی ضرورت کے حوالے سے متفقہ موقف سامنے آیا۔

مذکورہ ممالک نے اس متنازع میزائل پروگرام کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روک دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کو ان میزائلوں کی فراہمی پر روک لگائی جائے جن کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چاروں ممالک کے مندوبین نے ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کی پیش رفت اور میزائلوں کی ایران سے یمن میں حوثیوں کو منتقلی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے سعودی عرب پر ایرانی ساختہ حوثی میزائل داغے جانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے ایران اور پاسداران انقلاب کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔

روس کے نمائندے نے اس انداز کو "دھمکیوں اور پابندیوں کی زبان" قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعاون کو وسیع کرنے اور اعتماد کے تبادلے کے مقصد سے سفارتی راستہ اور بات چیت کا طریقہ کار استعمال میں لایا جائے۔

سلامتی کونسل میں فرانس کے مندوب نے ایرانی میزائل سرگرمیوں کے روکے جانے کے واسطے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ میں یورپی یونین کی نمائندہ خاتون نے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام سے نمٹا جانا چاہیے اور اس کا جوہری پروگرام بھی زیرِ معائنہ لایا جانا چاہیے۔

اس دوران اقوام متحدہ کے نائب سکریٹری جنرل جیفری فلیٹ مین نے تجویز پیش کی کہ سلامتی کونسل ایک نئی قرارداد کی منظوری دے۔ اس کا مقصد قرارداد 2231 کو مضبوط اور واضح کرنا ہو اور یہ بیلسٹک میزائل سے متعلق ایران کی تمام تر سرگرمیوں کو ممنوع قرار دے۔