.

خاتون بلاگر کا سر قلم کرنے کی منصوبہ بندی ، امریکی شہری کو 28 برس قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک عدالت نے منگل کے روز میساچیوسٹس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو 28 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ شخص پر الزام تھا کہ اُس نے 2015 میں شدت پسند تنظیم داعش کی سپورٹ سے پولیس پر حملے اور ایک خاتون بلاگر کا سر قلم کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ خاتون بلاگر نے "پیغمبرِ اسلام" کے خاکے تیار کرنے کا مقابلہ منعقد کیا تھا۔

ملزم ڈیوڈ رائٹ پر 5 اکتوبر کو فرد جُرم عائد کی گئی۔ اس پر 5 الزامات تھے جن میں اپنے ایک عزیز اور ایک دوست کے ہمراہ نیویارک کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی شامل ہے تا کہ خاتون بلاگر پامیلا گیلر کا سر قلم کیا جا سکے۔

البتہ یہ سفر نہیں کیا جا سکا۔ رائٹ کے عزیز اسامہ رحیم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے اپنے گروپ کے شریکوں کو بتایا کہ وہ گیلر کے بجائے میساچیوسٹس میں پولیس افسران کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پولیس افسران کو اس گفتگو کا علم ہو گیا اور جب پولیس نے ایک اسٹور کے نزدیک گاڑیوں کی پارکنگ میں اسامہ سے پوچھ گچھ کے لیے اُس کے پاس جانے کی کوشش کی تو اسامہ نے فورا اپنے ہاتھ میں موجود چاقو بلند کر لیا جس پر فائرنگ کر کے اُسے ہلاک کر دیا گیا۔

اگرچہ ڈیوڈ رائٹ وہاں موجود نہیں تھا تاہم اُسے نیویارک حملے کی منصوبہ بندی کرنے اور ثبوت ضائع کرنے کے سبب مُجرم ٹھہرایا گیا۔ استغاثہ نے رائٹ کو عمر قید سنانے کی استدعا کی تھی۔ خاتون بلاگر گیلر نے بھی جج سے درخواست کی تھی کہ رائٹ کو عمر قید کی سزا سنائی جائے۔

رائٹ نے پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران بتایا کہ وہ ایک "خیالی دنیا" میں رہتا تھا اور یہ منصوبہ بندی خیالی پلاؤ سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ رائٹ کا مزید کہنا تھا کہ اُس نے گیلر کو نقصان پہنچانے کے بارے میں ہر گز نہیں سوچا تھا اور یہ کہ جب اسامہ نے پولیس پر حملہ کیا تو وہ حیران رہ گیا۔

رائٹ کے وکلاء نے مطالبہ کیا تھا کہ اُن کے موکل کو صرف 16 برس کی قید ہونا چاہیے اور پھر رہائی کے بعد پوری زندگی زیر نگرانی رکھا جانا چاہیے۔