.

سابق امریکی صدر اوباما نے حزب اللہ کی ’’کوکین سلطنت‘‘ کے خلاف تحقیقات کیوں رکوائی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ایک انسداد منشیات ایجنسی کی لاطینی امریکا سے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو منی لانڈرنگ اور منشیات کے دھندے سے ملنے والی رقوم کو رکوانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کو دبانے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جوہری ڈیل کو بچانا چاہتے تھے۔

اس بات کا انکشاف امریکی میگزین پولیٹیکو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اس کے مطابق ڈرگ انفورس منٹ ایجنسی ( ڈی ای اے) ’’ پراجیکسٹ قسندرا‘‘ کے نام سے ایک آپریشن کررہی تھی اور اس کو یہ توقع تھی کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جو کارکنان کوکین کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، انھیں گرفتار کر کے سزا دلائی جاسکے گی۔

رپورٹ کے مطابق ’’صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایران سے جوہری معاہدے کو بچانے کے نام پر اس آپریشن کو رکوا دیا تھا کیونکہ اسے یہ خدشہ لاحق تھا کہ اس کارروائی کے جاری رہنے سے ایران کے ساتھ چلائی جانے والی کشتی ڈگمگا سکتی ہے‘‘۔اس جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عاید بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں اور اس کے بدلے میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کردیا تھا۔

’’ڈی ای اے نے آٹھ سال تک طویل یہ تحقیقات کی تھی اور اس نے اپنے مخبروں اور خفیہ اہلکاروں کے ذریعے حزب اللہ کے اس غیر قانونی دھندے اور نیٹ ورکس کا سراغ لگایا تھا۔اس کو تیس امریکی اور غیر ملکی سکیورٹی ایجنسیوں کی بھی حمایت حاصل رہی تھی‘‘۔

پولیٹیکو نے پراجیکٹ قسندرا پر کام کرنے والے جن ایجنٹوں سےگفتگو کی ہے ،انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے تحقیقات کو خاموش کرادیا تھا یا نقصان پہنچایا تھا ۔اس طرح حزب اللہ کے کارکنان کو اپنی کارستانیاں جاری رکھنے کی خاموش اجازت دے دی گئی تھی۔

پراجیکٹ قسندرا

پراجیکٹ قسندرا کے ایجنٹوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ انصاف کے حکام کی جانب سے اس منصوبے پر کام سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔نیز انھوں نے کوکین کی اسمگلنگ میں ملوث بنیادی شخصیات کی گرفتاریوں ،ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور مالیاتی پابندیاں عاید کرنے کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی تھیں۔

پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ آپریشن سات ممالک میں کیا تھا۔اس سے حزب اللہ کے خود کو مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی ایک عسکری اور سیاسی تنظیم سے ایک بین الاقوامی کرائم سینڈیکیٹ میں تبدیل ہونے کے شواہد کا پتا چلا تھا۔بعض تحقیقات کار کے بہ قول حزب اللہ منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ ، منی لانڈرنگ اور دوسری مجرمانہ سرگرمیوں سے ایک ارب ڈالرز کی رقم سالانہ اکٹھی کررہی تھی۔

پراجیکٹ قسندرا میں منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے درمیان خطرناک اور مذموم عالمی گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف ہوا تھا۔حزب اللہ کے کارکنان نے مبینہ طور پر منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کو ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کیا تھا اور یہ ہتھیار اب شام میں استعمال کیے جارہے ہیں۔

اس امریکی جریدے نے اپنی اس تحقیقاتی رپورٹ کا خلاصہ یہ لکھا ہے کہ ’’صدر اوباما کی انتظامیہ نے بظاہر حزب اللہ کو گل کھلانے کی اجازت دے رکھی تھی حالانکہ امریکا کے محکمہ خارجہ نے اس کو 1997ء سے غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔