.

قطری خیراتی ادارے کس طرح متشدد انتہا پسندی کی حمایت کررہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر سے تعلق رکھنے والے خیراتی ادارے امداد کے نام پرکس طرح متشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کو پھیلانے میں کردار ادا کررہے ہیں،اس کے مزید شواہد امریکی مرکز برائے جمہوریت کے شائع شدہ ایک مضمون میں سامنے آئے ہیں۔

منگل کو منظر عام پر آنے والے اس مضمون میں قطر چیرٹی ( ق چ) کی مشرقِ وسطیٰ ، شمالی افریقا اور شمالی امریکا میں سرگرمیوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ’’ اقوام متحدہ نے قطر چیرٹی کو شامیوں ، فلسطینیوں اور صومالیوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں پہلے نمبر پر قرار دیا تھا لیکن اس نے لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے میں قطر کے کردار کا کوئی حوالہ نہیں دیا تھا‘‘۔

اس مضمون میں لکھا ہے:’’ قطری خیراتی ادارے نے ساڑھے پانچ لاکھ ڈالرز کی رقم لیبیا کے مہاجرین کو امداد کی شکل میں دی تھی۔تاہم قطر چیرٹی نے دنیا بھر میں اپنی امدادی سرگرمیوں کے بارے میں جو نقشہ فراہم کیا تھا ،اس میں لیبیا میں سرے سے کسی سرگرمی کا کوئی ذکر نہیں تھا‘‘۔

پھر اس نے یہ بھی بیان جاری کیا تھا:’’ شام میں چھے سال قبل جنگ کے آغاز کے بعد اس نے قریباً 80 لاکھ شامیوں کی مدد کی ہے’’ لیکن اس بیان کی آزاد ذرائع سے کبھی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس نے دہشت گردی مخالف گروپ چار ( سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین ) کی جانب سے قطری اداروں اور شخصیات کو بلیک لسٹ قرار دینے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے ایک ترجمان کے بیان پر سوال اٹھایا تھا۔

اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ گوٹیرس کے اس بیان کا جواب قطر نے اگست 2017ء میں اقوام متحدہ کے لیے ساڑھے پچاسی لاکھ ڈالرز کی شکل میں دیا تھا اور یہ رقم شام میں برسرزمین کام کرنے والے امدادی کارکنان پر صرف کی گئی تھی۔

قطر کا ایک خیراتی ادارہ عید چیرٹی ایسوسی ایشن کینیڈا میں ائمہ اور مبلغین کی تعلیم وتربیت کی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے۔مضمون میں کینیڈا کی ریونیو ایجنسی کے یکم اکتوبر 2010ء سے 30 ستمبر 2013ء تک اسلامی سوسائٹی آف برٹش کولمبیا کےآڈٹ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔یہ سوسائٹی مبینہ طور پر قطری عید ایسوسی ایشن کے زیر اثر یا کنٹرول میں ہے اور اس قطری ادارے پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام کیا جاتا ہے۔

یہ اسلامی سوسائٹی پورٹ کو کوئٹلام ،برٹش کولمبیا میں مسجد الحدیبیہ اور اسلامی ثقافتی مرکز کے انتظام وانصرام کی ذمے دار ہے۔گلوبل نیوز کی رپورٹ کے مطابق :’’ ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عید فاؤنڈیشن اسلامی خیراتی اداروں پر مشتمل الخیر یونین کی ایک رکن تنظیم ہے ۔اس یونین کو حماس چلاتی ہے اور اس فلسطینی تنظیم کو کینیڈا نے بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے‘‘۔

عید ایسوسی ایشن نے 2011ء میں مس ایسو آگا سے تعلق رکھنے والے دارالتوحید اسلامی مرکز اور صفا ومروہ اسلامی اسکول کو 3 لاکھ 85 ہزار قطری ریال عطیے کے طور پر دیے تھے۔ اس کے پانچ سال کے بعد جنوری 2016ء میں دارالتوحید اسلامی مرکز کے امام ابراہیم ہندی چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دوحہ گئے تھے۔ یہ امام صاحب دنیا بھر میں جہاد اور مجاہدین کی حمایت کا کھلے عام اظہار کرتے رہتے ہیں ۔

انھوں نے اسی سال مصر سے تعلق رکھنے والے ایک سلفی مبلغ شیخ نشأت احمد کی میزبانی کی تھی۔ان صاحب کو بعد میں مجاہدین کی عالمی جہاد کے لیے حمایت کے الزام میں مصر میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انھوں نے مبینہ طور پر امریکا پر نائن الیون حملوں کو بھی درست قرار دیا تھا۔